آخری بینچ
احمد ہمیشہ کلاس کے آخری بینچ پر بیٹھتا تھا۔ نہ اس لیے کہ اسے وہاں بیٹھنا پسند تھا، بلکہ اس لیے کہ وہ خود کو نمایاں نہیں کرنا چاہتا تھا۔
استاد سوال پوچھتے، ہاتھ آگے اٹھتے، مگر احمد کی نظریں ہمیشہ کاپی پر جھکی رہتیں۔
بچپن سے اس کے دل میں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ وہ دوسروں جتنا ذہین نہیں۔ چند بار غلط جواب دینے پر ہنسی اُڑی، اور وہ اندر ہی اندر خاموش ہو گیا۔
ایک دن نئے استاد آئے۔ انہوں نے کلاس میں داخل ہوتے ہی کہا: “آج میں آخری بینچ سے پڑھانا شروع کروں گا۔”
طلبہ حیران ہو گئے۔
استاد سیدھے احمد کے پاس آئے اور نرمی سے پوچھا: “بیٹا، تم اس سوال کا کیا جواب دو گے؟”
احمد کے ہاتھ کانپنے لگے، مگر اس نے ہمت کر کے جواب دیا۔ جواب درست تھا۔
کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
استاد مسکرائے اور بولے: “صلاحیت آگے بیٹھنے سے نہیں، خود پر یقین رکھنے سے نظر آتی ہے۔”
اس دن کے بعد احمد بدلنے لگا۔ وہ سوال پوچھنے لگا، جواب دینے لگا، اور آخری بینچ اب اسے قید نہیں لگتا تھا۔
سال کے اختتام پر احمد نے بہترین کارکردگی کا ایوارڈ حاصل کیا۔
تقریب میں استاد نے کہا: “یاد رکھیں، کبھی کبھی سب سے روشن ذہن سب سے خاموش جگہ پر بیٹھا ہوتا ہے۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ خود اعتمادی کے بغیر علم بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ ہر طالب علم میں صلاحیت ہوتی ہے، بس اسے پہچاننے والے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کسی کو اس کی خاموشی سے مت ناپیں۔
ہو سکتا ہے وہ اپنی باری کا انتظار کر رہا ہو۔
سبق:
خود پر یقین کریں،
چاہے آپ آخری بینچ پر ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔
— اختتام —