خالی کرسی
ہر شام وہی منظر ہوتا تھا۔
گھر کے صحن میں چائے رکھی جاتی،
اور ایک کرسی ہمیشہ خالی رہتی۔
یہ کرسی کبھی خالی نہیں ہوتی تھی۔ یہاں امّی بیٹھا کرتی تھیں۔
ان کی ہلکی سی مسکراہٹ، چائے کی خوشبو، اور باتوں کا سکون اب صرف یاد بن چکا تھا۔
حمزہ شروع میں اس خالی کرسی کو نظر انداز کرتا رہا۔
“وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جاتا ہے،” وہ خود کو تسلی دیتا۔
مگر وقت ٹھیک نہیں ہوا،
خاموش ہو گیا تھا۔
ایک دن اس نے وہ کرسی اٹھا کر اسٹور میں رکھنے کا سوچا۔
جیسے ہی اس نے کرسی کو ہاتھ لگایا،
امّی کی آواز کانوں میں گونج اٹھی:
“چائے ٹھنڈی ہو جائے گی، پہلے پی لو۔”
حمزہ وہیں بیٹھ گیا۔
کرسی خالی تھی، مگر دل بھر گیا۔
اس دن کے بعد وہ ہر شام اس کرسی کے پاس بیٹھنے لگا۔
وہ باتیں کرتا، شکوے کرتا،
اور دل ہلکا کر لیتا۔
لوگ کہتے تھے:
“اب آگے بڑھو، سب ختم ہو چکا ہے۔”
مگر حمزہ جان چکا تھا کہ
کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے،
صرف شکل بدل لیتے ہیں۔
ایک دن اس نے اس کرسی پر ایک پودا رکھ دیا۔
زندگی کی علامت۔
اب وہ کرسی خالی نہیں تھی،
وہ یادوں سے بھری ہوئی تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کی کمی کو مٹایا نہیں جا سکتا،
مگر اسے قبول کر کے جینا سیکھا جا سکتا ہے۔
یادیں ہمیں توڑتی نہیں،
اگر ہم انہیں سنبھالنا سیکھ لیں۔
سبق:
جانے والوں کو دل میں جگہ دیں،
خالی جگہیں خود بھر جاتی ہیں۔
— اختتام —