آخری بس
اسٹاپ پر بس کے آنے کا وقت ہو چکا تھا۔
علی ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالے کھڑا تھا، مگر قدم آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔
یہ آخری بس تھی۔
یا تو وہ اس میں بیٹھتا،
یا وہیں کا وہیں رہ جاتا۔
اس کے ذہن میں سوالات شور مچا رہے تھے۔
نئی نوکری، نیا شہر،
اور سب کچھ پیچھے چھوڑ دینے کا خوف۔
ڈریور نے ہارن دیا۔
دروازہ آہستہ آہستہ بند ہونے لگا۔
علی نے پیچھے دیکھا۔ پرانا محلہ، دوستوں کی آوازیں، اور ماں کی نصیحتیں۔
“اگر موقع ملے تو ڈرنا مت،” ماں نے کہا تھا۔
اس نے ایک گہری سانس لی اور بس میں قدم رکھ دیا۔
بس چل پڑی۔
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے علی کو احساس ہوا کہ ڈر بس اسٹاپ پر رہ گیا ہے۔
منزل ابھی دور تھی، مگر فیصلہ ہو چکا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں ہر فیصلہ آسان نہیں ہوتا،
مگر کچھ فیصلے ضروری ہوتے ہیں۔
مواقع ہمیشہ شور نہیں مچاتے،
کبھی کبھی وہ بس کی طرح خاموشی سے آتے ہیں۔
سبق:
جب وقت آئے،
قدم بڑھائیں—
بس دوبارہ نہیں رُکتی۔
— اختتام —