← تمام اردو کہانیاں

چراغ جلانے والا

An old man lighting a small oil lamp in a dark street at dusk, warm light, emotional, realistic

شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی۔ نہ وہاں اسٹریٹ لائٹس ٹھیک تھیں، نہ رات کو کوئی ادھر سے گزرنا پسند کرتا تھا۔

اندھیرا اس گلی کی پہچان بن چکا تھا۔

اسی گلی میں رشید چاچا رہتے تھے۔ عمر ساٹھ سے اوپر، چہرے پر جھریاں، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی۔

ہر شام مغرب کے بعد وہ اپنے گھر کے باہر ایک چھوٹا سا تیل کا چراغ جلا دیتے۔

لوگ ہنستے تھے: “یہ ایک چراغ کیا بدل لے گا؟”

رشید چاچا مسکرا کر کہتے: “اندھیرا پورا ختم نہیں ہو گا، مگر یہ جگہ تو روشن ہو جائے گی۔”

ایک رات بارش ہو رہی تھی۔ گلی مزید سنسان تھی۔ اسی گلی میں ایک لڑکا پھسل کر گر گیا۔ اس کے گھٹنے سے خون بہہ رہا تھا۔

اگر چراغ نہ ہوتا، تو شاید کوئی اسے دیکھ نہ پاتا۔

رشید چاچا نے اسے سہارا دیا، گھر لے گئے، مرہم لگایا۔

اگلے دن اس لڑکے کے والد نے گلی میں ایک بلب لگوا دیا۔

پھر دوسرے گھر والوں نے بھی اپنے اپنے دروازوں کے باہر روشنی کا انتظام کر لیا۔

چند ہفتوں میں وہ گلی جو اندھیرے کی علامت تھی، روشنی کی مثال بن گئی۔

کسی نے رشید چاچا سے کہا: “آپ نے تو گلی بدل دی۔”

وہ آہستہ سے بولے: “میں نے بس چراغ جلایا تھا، باقی روشنی نے خود راستہ بنا لیا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
بڑی تبدیلی کے لیے
بڑا وسائل نہیں،
بڑا ارادہ چاہیے۔

ہم اکثر کہتے ہیں:
“اکیلا کیا کر سکتا ہے؟”

مگر حقیقت یہ ہے کہ
ہر روشنی کی شروعات
ایک چراغ سے ہی ہوتی ہے۔

سبق:
اندھیروں کو الزام دینے کے بجائے
اپنی استطاعت کا چراغ جلائیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →