قطار میں کھڑا آدمی
صبح کے آٹھ بجے تھے،
اور دفتر کے باہر قطار پہلے ہی لمبی ہو چکی تھی۔
ہر چہرے پر بے صبری،
ہر ہاتھ میں کاغذات کا پلندہ۔
اس قطار میں عمران بھی کھڑا تھا۔
سادہ کپڑے،
جوتے پرانی مٹی سے اَٹے ہوئے،
اور آنکھوں میں رات کی تھکن۔
وہ پچھلے تین مہینوں سے اسی دفتر آ رہا تھا۔
کبھی کوئی فارم غلط،
کبھی کوئی دستخط رہ گیا،
اور کبھی “کل آئیے” کا جملہ۔
لوگ بُرا بھلا کہتے،
کچھ لائن توڑنے کی کوشش کرتے،
اور کچھ سفارش ڈھونڈتے۔
عمران خاموش کھڑا رہتا۔
اس کے پیچھے ایک نوجوان بولا:
“بھائی، آپ کو سمجھ نہیں آتی؟
یہاں سیدھے کام نہیں ہوتے۔”
عمران نے آہستہ سے کہا:
“مجھے جلدی نہیں،
مجھے درست طریقہ چاہیے۔”
اس کے کاغذات اس کے والد کی پنشن کے تھے۔
والد وفات پا چکے تھے،
اور گھر کا خرچ اسی سے چلنا تھا۔
دوپہر تک سورج تیز ہو گیا۔
کچھ لوگ واپس چلے گئے۔
عمران پھر بھی کھڑا رہا۔
آخرکار اس کی باری آئی۔
کلرک نے فائل دیکھی،
ایک لمحہ رُکا،
اور بولا:
“اس بار سب ٹھیک ہے۔”
وہ جملہ کوئی جشن نہیں تھا،
مگر عمران کے لیے
مہینوں کی جیت تھی۔
وہ دفتر سے نکلا تو
قطار اب بھی وہیں تھی،
مگر اس کے قدم ہلکے ہو چکے تھے۔
اسے معلوم تھا
کہ اس کی جدوجہد کوئی نہیں دیکھے گا،
مگر اس کا ضمیر گواہ تھا
کہ وہ قطار سے بھاگا نہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
ہر کامیابی تالیاں نہیں بجاتی۔
کچھ کامیابیاں
خاموشی میں ملتی ہیں،
اور خودداری کے ساتھ ملتی ہیں۔
دنیا شارٹ کٹس سکھاتی ہے،
مگر لمبا راستہ
انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔
سبق:
اگر آپ صحیح جگہ
صحیح نیت کے ساتھ
کھڑے ہیں،
تو قطار لمبی ہونے سے
آپ غلط نہیں ہو جاتے۔
— اختتام —