← تمام اردو کہانیاں

مٹی کی خوشبو

A farmer standing barefoot in a field after rain, soil on hands, village background, realistic

بارش کے بعد کھیت کی مٹی سے ایک خاص خوشبو اٹھتی ہے۔ اللہ رکھا جب بھی اس خوشبو کو محسوس کرتا، اس کے چہرے پر تھکن کے باوجود سکون آ جاتا۔

اللہ رکھا ایک کسان تھا۔ نہ اس کے پاس بڑی زمین تھی، نہ جدید مشینیں۔ بس باپ کی دی ہوئی ہل، اور ماں کی سکھائی ہوئی دعا۔

گاؤں کے لوگ اکثر کہتے: “شہر چلے جاؤ، یہ کھیتی کچھ نہیں دے گی۔”

مگر اللہ رکھا جانتا تھا کہ یہ مٹی اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔

ایک سال بارش کم ہو گئی۔ فصل کمزور تھی۔ ادھار بڑھنے لگا۔

اللہ رکھا نے کئی راتیں کھیت کے کنارے بیٹھ کر گزاری۔ وہ مٹی کو ہاتھ میں لیتا اور خاموشی سے دعا کرتا۔

اس نے شارٹ کٹ نہیں اپنایا۔ نہ ملاوٹ، نہ دھوکہ۔

وقت پر بیج ڈالا، صبر سے پانی دیا۔

جب فصل کٹی تو مقدار زیادہ نہیں تھی، مگر دانہ خالص تھا۔

شہر سے ایک تاجر آیا۔ اس نے اناج دیکھا اور کہا: “یہی چاہیے، صاف اور سچا۔”

اللہ رکھا کو مناسب دام ملا۔ قرض اتر گیا، اور سر فخر سے بلند ہو گیا۔

اس دن اس نے مٹی کو چوما اور کہا: “تو نے دیر کی، مگر ناانصافی نہیں کی۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
محنت کا پھل فوری نہیں،
مگر پائیدار ہوتا ہے۔

رزقِ حلال کم نظر آ سکتا ہے،
مگر اس میں سکون زیادہ ہوتا ہے۔

سبق:
جو مٹی سے جڑا رہتا ہے،
وہ زندگی میں کبھی جڑ سے نہیں اکھڑتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →