غلط نمبر
عمر ایک نجی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ زندگی منظم تھی، ٹائم ٹیبل کے مطابق چلتی ہوئی، اور جذبات سے کافی حد تک خالی۔
ایک شام وہ ایک کیفے میں بیٹھا تھا کہ اس کے فون پر ایک پیغام آیا:
“ابو، میں اسپتال پہنچ گئی ہوں۔ براہِ کرم جلد آ جائیں۔”
عمر نے چونک کر نمبر دیکھا۔ یہ اس کا نمبر نہیں تھا۔ غلط پیغام تھا۔
اس نے فون ایک طرف رکھا اور کافی کا گھونٹ لیا۔ اس کا دل کہہ رہا تھا: “یہ تمہارا مسئلہ نہیں۔”
چند لمحوں بعد اسی نمبر سے کال آئی۔ دوسری طرف گھبرائی ہوئی لڑکی کی آواز تھی۔
“ابو؟ آپ سن رہے ہیں؟”
عمر نے ایک لمحہ خاموش رہ کر کہا: “بیٹا، شاید آپ نے غلط نمبر ملایا ہے۔”
فون بند ہو گیا۔ مگر عمر کا دل نہیں۔
اس نے سوچا: “اگر واقعی کوئی مسئلہ ہے تو؟”
اس نے واپس اسی نمبر پر کال کی۔ لڑکی رو رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کی والدہ بیمار ہیں اور والد کا فون بند جا رہا ہے۔
عمر نے لمحہ بھر سوچا، پھر کہا: “آپ اسپتال کا نام بتائیں، میں دیکھتا ہوں کیا کر سکتا ہوں۔”
وہ اس اسپتال گیا، انتظامیہ سے بات کی، اور لڑکی کے والد تک پیغام پہنچوایا۔
کچھ دیر بعد ایک ادھیڑ عمر شخص آیا، آنکھوں میں آنسو اور آواز میں شکر۔
“بیٹا، اگر تم واپس کال نہ کرتے تو ہم بہت مشکل میں پڑ جاتے۔”
عمر نے بس اتنا کہا: “غلط نمبر تھا، مگر وقت صحیح تھا۔”
وہ گھر لوٹا تو اس کی زندگی ویسی ہی تھی، مگر وہ خود ویسا نہیں رہا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
اخلاقی ذمہ داری ہمیشہ
قانون یا رشتے کی محتاج نہیں ہوتی۔
ہم اکثر کہہ دیتے ہیں:
“یہ میرا کام نہیں۔”
مگر انسانیت
اکثر وہیں سے شروع ہوتی ہے
جہاں ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
سبق:
زندگی میں اچھا انسان بننے کے لیے
ہر کال اپنا ہونا ضروری نہیں۔
— اختتام —