ریت کی لکیر
ساحل پر شام اتر رہی تھی۔ سمندر خاموش تھا، مگر لہروں میں عجیب سی بے چینی تھی۔
کمال ننگے پاؤں ریت پر چل رہا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ ریت اس کے نشان مٹا دیتی۔
وہ یہاں اکثر آتا تھا جب فیصلے بھاری ہو جاتے تھے۔
اس دن اس نے جھک کر ریت پر ایک لکیر کھینچی۔ بالکل سیدھی۔
وہ لکیر اس کے دل کی کشمکش کی علامت تھی— ایک طرف نوکری، دوسری طرف خواب۔
وہ سوچتا رہا: “کیا زندگی ہمیشہ محفوظ راستہ مانگتی ہے؟”
ہوا تیز ہوئی۔ ایک لہر آئی اور لکیر آدھی مٹا گئی۔
کمال چونکا نہیں۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید کچھ لکیریں مٹنے کے لیے ہی بنتی ہیں۔
اس نے جوتے اٹھائے اور پانی کی طرف بڑھ گیا۔ ریسک، غیر یقینی، مگر زندہ۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی لکیر نہ تھی، مگر قدموں میں وزن تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
ہر فیصلہ پتھر پر لکیر نہیں ہوتا۔
زندگی میں کچھ راستے
عارضی ہچکچاہٹ مانگتے ہیں،
مگر ہمیشہ کے لیے
جرأت بھی سکھاتے ہیں۔
سبق:
اگر لکیر مٹ جائے
تو گھبرائیں نہیں—
شاید وہ راستہ نہیں تھا،
بس ایک اشارہ تھا۔
— اختتام —