خاموش دعا
فجر سے پہلے کی خاموشی تھی۔ گلیاں سو رہی تھیں، اور آسمان پر ہلکی سی روشنی اتر رہی تھی۔
زاہد مسجد کے صحن میں بیٹھا تھا۔ نماز ہو چکی تھی، لوگ جا چکے تھے، مگر وہ وہیں رکا ہوا تھا۔
اس کے ہونٹ خاموش تھے، مگر دل شور سے بھرا ہوا تھا۔
کئی سالوں سے وہ ایک ہی دعا مانگ رہا تھا— ترقی، آسانی، اور وہ سکون جو دوسروں کے چہروں پر نظر آتا تھا۔
مگر ہر بار نتیجہ خاموشی ہوتا۔
زاہد نے سر جھکا لیا۔ اسے لگا شاید اس کی دعا میں کوئی کمی ہے۔
اسی لمحے امام صاحب صحن سے گزرے۔ انہوں نے زاہد کو دیکھا اور پاس آ کر بیٹھ گئے۔
“بیٹا، کچھ دعائیں قبول ہو کر بھی سنائی نہیں دیتیں،” امام صاحب نے آہستہ کہا۔
زاہد نے حیرت سے دیکھا۔
“رب کبھی ہمیں وہ نہیں دیتا جو ہم مانگتے ہیں، بلکہ وہ دے دیتا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔”
زاہد کے دل پر یہ بات ٹھہر گئی۔
اس دن کے بعد اس نے دعا بدل دی۔ اب وہ یہ نہیں کہتا تھا: “مجھے یہ دے دے،”
وہ بس کہتا: “مجھے درست بنا دے۔”
وقت گزرا۔ زندگی آسان نہیں ہوئی، مگر زاہد آسان ہو گیا۔
اور یہی اس کی خاموش دعا کی قبولیت تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
دعا کا اثر ہمیشہ حالات میں نہیں،
اکثر انسان کے اندر ہوتا ہے۔
خاموش دعا
دل کو بدل دیتی ہے،
اور بدلا ہوا دل
زندگی کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے۔
سبق:
جب الفاظ ختم ہو جائیں،
تب بھی دعا جاری رہتی ہے۔
— اختتام —