← تمام اردو کہانیاں

میں ہی سب کچھ نہیں

Office meeting room with one confident man standing and others quietly observing, realistic, subtle humor tone

فراز کو اپنے کام پر بڑا ناز تھا۔ اور ناز بھی ایسا کہ سلام سے پہلے اپنا تعارف کرواتا۔

“یہ رپورٹ میں نے بنائی ہے۔” “یہ آئیڈیا میرا تھا۔” “یہ کام میرے بغیر ممکن نہیں تھا۔”

دفتر میں سب مسکراتے، مگر کچھ نہ کہتے۔

ایک دن کمپنی نے اعلان کیا کہ فراز کو ایک ہفتے کی جبری چھٹی دی جا رہی ہے۔ ٹریننگ کے نام پر۔

فراز کو ہنسی آ گئی۔ “ایک ہفتہ؟ یہ لوگ کام کیسے سنبھالیں گے؟”

پہلے دن وہ موبائل ہاتھ میں لیے خبروں کا انتظار کرتا رہا۔ کوئی کال نہیں آئی۔

دوسرے دن اس نے خود میسج کیا: “سب ٹھیک چل رہا ہے؟”

جواب آیا: “جی، کام جاری ہے۔”

تیسرے دن اسے پتہ چلا کہ اس کی غیر موجودگی میں جونیئر نے مسئلہ حل کر لیا تھا، اور ٹیم نے نیا طریقہ اپنا لیا تھا۔

فراز کو عجیب سا لگا۔ نہ برا، نہ اچھا— بس خالی۔

دفتر واپس آ کر اس نے دیکھا کہ نظام ویسے ہی چل رہا تھا، بس آوازیں کم تھیں۔

اس دن فراز نے پہلی بار کہا: “یہ آئیڈیا ہم سب کا تھا۔”

کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، مگر فضا ہلکی ہو گئی۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
کامیابی کبھی اکیلے کی نہیں ہوتی،
بس ہم اکثر اکیلا دکھانا چاہتے ہیں۔

عاجزی انسان کو چھوٹا نہیں کرتی،
بلکہ قابلِ برداشت بناتی ہے۔

سبق:
اہم ہونا اچھی بات ہے،
مگر ناگزیر سمجھنا
اکثر وہم ہوتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →