← تمام اردو کہانیاں

ریت کی گھڑی

ایک پرانی میز پر رکھی ریت کی گھڑی، جس میں ریت آہستہ آہستہ بہہ رہی ہے، اور کھڑکی سے سورج کی آخری کرن اندر آرہی ہے۔

میں نے ریت کی گھڑی اس کے جانے کے بعد خریدی تھی۔ دکان دار نے کہا تھا، “یہ گھڑی وقت نہیں ناپتی، انتظار ناپتی ہے۔” تب میں ہنس دیا تھا۔ مگر اب، برسوں بعد، میں سمجھا — شاید وہ سچ کہہ رہا تھا۔

ہر صبح میں گھڑی کو الٹا دیتا۔ ریت نیچے گرتی رہتی — ایک ایک لمحہ، ایک ایک یاد۔ کبھی لگتا جیسے اس کے قدموں کی چاپ ہے، کبھی اس کی ہنسی کی بازگشت۔

دن مہینوں میں بدلے، مہینے برسوں میں۔ مگر گھڑی کی ریت ختم نہیں ہوئی۔ عجیب تھا — جیسے وقت میرے گھر کی دیواروں کے بیچ قید ہو گیا ہو۔

ایک رات، جب چاندنی کمرے میں پھیل گئی، میں نے ریت کی گھڑی کو غور سے دیکھا۔ ریت کے اندر ایک عکس تھا — جیسے وہ خود وہاں کھڑی ہو، مسکرا رہی ہو۔

میں نے لرزتے ہاتھوں سے گھڑی اٹھائی۔ “کیا تم اب بھی وہی لمحہ ہو؟” ریت ہلکی سی چمکی — جیسے جواب میں ہاں کہا ہو۔

اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ گھڑی گر کر ٹوٹ گئی۔ ریت فرش پر بکھر گئی — اور کمرے میں وہی خوشبو پھیل گئی جو برسوں پہلے اس کے جانے کے دن تھی۔

میں نے خاموشی سے ریت کو چھوا۔ انگلیوں کے درمیان وقت پھسل گیا، مگر دل میں ایک نیا لمحہ جنم لے چکا تھا۔ شاید کچھ جدائیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس شکل بدل کر لوٹ آتی ہیں۔

اگلی صبح میں نے نئی گھڑی نہیں لی۔ میں نے ریت وہیں رہنے دی — کہ شاید وقت اب آزاد ہو چکا تھا۔

مفہوم / عکاسی:
“ریت کی گھڑی” یہ بتاتی ہے کہ وقت ہمیشہ سیدھا نہیں بہتا — کبھی کبھی وہ پلٹ کر ہمیں دیکھتا ہے، یادوں میں ٹھہرتا ہے، اور تب ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اصل گھڑی ہمارے اندر چل رہی ہے۔

— اختتام —