← تمام اردو کہانیاں

خاموش شاعر

نیم اندھیرے کمرے میں ایک پرانا شاعر بیٹھا ہے، اردگرد کتابیں، کھلی سیاہی کی دوات، اور ایک بجھا ہوا چراغ۔

پرانا مکان دریا کے کنارے کھڑا تھا۔ دروازے پر جھولتی گھنٹی ہر جھونکے کے ساتھ بجتی، جیسے وقت کی چاپ۔ میں نے دستک دی، اور دروازہ خود بخود کھل گیا۔

اندر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا، سفید داڑھی، لرزتے ہاتھ، اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔ میز پر کھلے ہوئے کاغذوں پر آدھے لکھے اشعار، اور دوات کے کنارے سوکھی ہوئی سیاہی۔

“میں *ریاض حیدر* ہوں،” اس نے کہا۔ “شاعر نہیں، وہ جو بولنا بھول گیا ہے۔” میں نے کہا، “میں آپ سے انٹرویو لینے آیا ہوں۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا۔”

وہ مسکرایا — ایک تھکی ہوئی، مگر سچی مسکراہٹ۔ “لکھنا چھوڑا نہیں بیٹا، بس اب لفظوں کو سانس لینے دیا ہے۔ کچھ احساسات سیاہی سے نہیں لکھے جاتے۔ وہ خاموشی میں پکتے ہیں۔”

میں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا قلم دیکھا۔ “کبھی لکھنے کو دل نہیں چاہتا؟” “چاہتا ہے۔ مگر جب دل بہت کچھ کہنا چاہے — تب قلم رک جانا ہی ادب ہوتا ہے۔”

وہ کھڑکی کے پاس گیا۔ باہر شام اتر رہی تھی۔ آسمان پر اڑتے پرندے جیسے نظم کا حصہ لگ رہے تھے۔ “دیکھو،” اس نے کہا، “یہ آسمان بھی شاعر ہے — ہر دن ایک نظم لکھتا ہے، اور رات آ کر سب مٹا دیتی ہے۔ یہی شاعری ہے۔”

میں نے خاموشی سے نوٹ بک بند کر دی۔ پوچھنے کو کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ دروازے سے نکلتے وقت میں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ اب بھی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، جیسے کسی نامکمل شعر کو دیکھ رہا ہو۔

باہر ہوا میں عجیب سی نرمی تھی۔ ایسا لگا جیسے میں کسی لفظ کے اندر سے گزر کر آیا ہوں۔

مفہوم / عکاسی:
“خاموش شاعر” یہ سکھاتا ہے کہ فن صرف بولنے میں نہیں — کبھی کبھی خاموش رہنا بھی اظہار کا حصہ ہوتا ہے۔ بعض شعر لکھے نہیں جاتے، وہ صرف محسوس کیے جاتے ہیں۔

— اختتام —