دروازہ بند رکھنا
کردار:
زریں — ماں، عمر ساٹھ کے قریب۔
احمد — بیٹا، پینتیس سال کا، برسوں بعد وطن لوٹا۔
حسن — احمد کا بیٹا، دس سال کا۔
(منظر: پرانے گھر کا آنگن، شام کے وقت۔)
(زریں صحن میں برتن دھو رہی ہے۔ دروازے پر دستک ہوتی ہے۔)
زریں: کون ہے؟ احمد: (دروازہ کھول کر) ماں... میں ہوں۔ (زریں رک جاتی ہے۔ ہاتھ میں پکڑا برتن زمین پر گر جاتا ہے۔) زریں: تم؟ تمہیں واپس آنے میں اتنے سال لگ گئے؟ احمد: ہاں ماں... شاید وقت ہی میرا دشمن تھا۔ زریں: وقت نہیں بیٹا، انسان خود اپنے دشمن ہوتے ہیں۔
(حسن آہستہ سے اندر آتا ہے۔) حسن: دادو، کیا یہ آپ کا بیٹا ہے؟ زریں: (ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ) ہاں... میرا کھویا ہوا بیٹا۔ (احمد جھک کر ہاتھ چومتا ہے۔ زریں کا ہاتھ لرزتا ہے۔)
احمد: ماں، میں دروازہ کھولنے آیا ہوں — وہ جو برسوں سے ہمارے بیچ بند ہے۔ زریں: (گہرا سانس لیتی ہے) بیٹا، دروازے تبھی کھلتے ہیں جب اندر کوئی باقی رہ جائے۔ میرے اندر اب صرف خاموشی ہے۔
(احمد کی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے۔ وہ بچپن کے آنگن کو دیکھتا ہے — درخت، دیوار، وہی کونے جہاں کھیلتا تھا۔) احمد: میں نے سوچا تھا واپس آ کر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ زریں: گھر وہ جگہ نہیں جہاں واپس آیا جائے — گھر وہ ہے جو تم دل میں چھوڑ آتے ہو۔
(حسن قریب آتا ہے، زریں کے گلے لگتا ہے۔) حسن: دادو، آپ ناراض نہ ہوں، بابا بدل گئے ہیں۔ (زریں آہستہ سے مسکراتی ہے۔) زریں: بچے سچ بولتے ہیں۔ شاید واقعی وقت بدل گیا ہے۔
(ہوا چلتی ہے، دروازہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ تینوں ایک لمحے کو خاموش ہو جاتے ہیں۔) احمد: (دھیمی آواز میں) دروازہ بند ہو گیا... زریں: ہاں، مگر اس بار دل کھل گیا ہے۔
(روشنی مدھم ہو جاتی ہے۔ پس منظر میں اذان کی آواز۔ آنگن میں خاموشی۔)
مفہوم / عکاسی:
“دروازہ بند رکھنا” رشتوں کے اندر کے فاصلوں پر لکھی گئی کہانی ہے۔
یہ بتاتی ہے کہ وقت دیواریں نہیں بناتا —
ہم خود اپنے دلوں کے دروازے بند کرتے ہیں۔
اور کبھی کبھی، دیر سے آیا ہوا معاف کرنا بھی محبت کی سب سے بڑی عبادت ہوتا ہے۔
— اختتام —