پت جھڑ کی خوشبو
وہ آج بھی پارک کی اُس پرانی بینچ پر بیٹھی تھی — جہاں ہر شام وہ دونوں ملا کرتے تھے۔ درختوں سے زرد پتے گر رہے تھے، اور ہوا میں بارش کے بعد کی مٹی کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ جیسے وہاں کوئی جواب لکھا ہو۔ مگر آسمان ہمیشہ خاموش رہتا ہے، بالکل اُس کی طرح جو بنا الوداع کہے چلا گیا تھا۔
اس کی چادر پر چند پرانے پتے آ گرے۔ وہ ہنس دی — “تم اب بھی مجھ سے بات کرتے ہو نا؟” مگر ہوا میں صرف ایک آہٹ تھی، کوئی آواز نہیں۔
اسے یاد آیا، ایک دن اسی موسم میں اس نے کہا تھا: “اگر کبھی میں چلا جاؤں، تو پت جھڑ کی خوشبو سونگھ لینا، میں وہیں کہیں آس پاس ہوں گا۔”
وہ تب ہنسی تھی — مگر آج وہ بات، ہوا کے ساتھ سچ لگنے لگی۔ ہر پتے کے گرنے کے ساتھ دل جیسے ہلکا ہو رہا تھا، مگر آنکھوں کے کنارے بھاری۔
بینچ پر ایک پرانی کتاب رکھی تھی — شاید وہی جو اس نے چھوڑ دی تھی۔ صفحہ نمبر اکہتر کھلا ہوا تھا، جہاں ایک حرف مٹا ہوا تھا اور نیچے لکھا تھا: “محبت مٹتی نہیں، بس روپ بدلتی ہے۔”
اس نے کتاب بند کی، آسمان کی طرف پھر دیکھا، اور آہستہ سے کہا، “میں نے تمہیں مٹایا نہیں... بس تمہیں بدل کر اپنے اندر رکھا ہے۔”
ہوا کے جھونکے نے اس کے گرد خوشبو پھیلا دی۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو — “میں یہیں ہوں، ہمیشہ سے۔”
وہ بینچ سے اٹھی، مگر کتاب وہیں چھوڑ گئی۔ شاید اس امید میں کہ کوئی اور آئے، اور اسے پڑھ کر سمجھ جائے کہ کچھ جدائیاں، دراصل محبت کی آخری صورت ہوتی ہیں۔
مفہوم / عکاسی:
“پت جھڑ کی خوشبو” یہ یاد دلاتی ہے
کہ احساسات کبھی ختم نہیں ہوتے —
وہ موسموں میں، خوشبوؤں میں، اور خاموشیوں میں زندہ رہتے ہیں۔
کبھی کبھی، محبت کا سب سے خالص روپ وہی ہوتا ہے
جو کہے بغیر سمجھ آ جائے۔
— اختتام —