ایک لمحے کا سکون
میں شہر سے تھک کر شمال کے ایک چھوٹے سے گاؤں چلا گیا تھا۔ نیٹ ورک نہیں، شور نہیں، صرف ہوا اور درختوں کی باتیں۔ وہاں ایک بوڑھا چرواہا روز مجھے راستے میں ملتا، ہاتھ میں لکڑی کی چھڑی، چہرے پر پرسکون مسکراہٹ۔
ایک دن میں نے پوچھا، “بابا، آپ کے پاس تو کچھ نہیں، پھر اتنے مطمئن کیسے ہیں؟” وہ ہنس پڑا — “میرے پاس سب کچھ ہے، بیٹا۔” “کیا؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
اس نے اپنی چھڑی زمین میں گاڑ دی، آسمان کی طرف دیکھا، اور بولا، “یہ ہوا، یہ سورج، یہ لمحہ — جب میں ان میں ہوتا ہوں، تو میں کچھ نہیں چاہتا۔ مگر جب میں سوچتا ہوں کہ کل کیا ہوگا، تب میں سب کچھ کھو دیتا ہوں۔”
میں خاموش رہا۔ ہوا میں چرواہے کے الفاظ تیرنے لگے۔ “زندگی، بیٹا، کسی منزل کا نام نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جسے تم پوری طرح جیتے ہو۔”
اس نے اپنی بھیڑوں کو دیکھا جو آہستہ آہستہ پہاڑ کی طرف جا رہی تھیں۔ “یہ بھیڑیں کبھی جلدی نہیں کرتیں، مگر وقت پر سب پہنچ جاتی ہیں۔ انسان دوڑتا ہے، مگر اکثر بھٹک جاتا ہے۔”
میں نے مسکرا کر کہا، “تو سکون کا راز بس یہی ہے؟” وہ بولا، “ہاں — سچ جاننا آسان ہے، مگر اس پر رکنا مشکل۔ سکون ہمیشہ وہیں ہوتا ہے جہاں تم خود کو بھول جاؤ۔”
سورج پہاڑ کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ بابا نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا، “دیکھو، دن ختم نہیں ہوا — بس ایک نیا رنگ اختیار کر رہا ہے۔ یہی زندگی ہے۔”
میں نے اس دن پہلی بار سانس لی — واقعی سانس، بغیر کسی فکر کے۔ محسوس کیا کہ شاید سکون کوئی جگہ نہیں، بلکہ ایک لمحہ ہے جو ہم اکثر گنوا دیتے ہیں۔
مفہوم / عکاسی:
“ایک لمحے کا سکون” یہ سکھاتا ہے
کہ زندگی کی اصل خوبصورتی *ابھی* میں ہے —
ماضی کی یاد یا مستقبل کا خوف صرف شور ہیں۔
جو لمحہ دل سے جیا جائے،
وہی پوری زندگی بن جاتا ہے۔
— اختتام —