آخری صفحہ
میں ایک پرانی کتابوں کے بازار میں نکلا تھا۔ پرانی جلدیں، مٹی کی خوشبو، اور ہر کتاب میں چھپی کہانیوں کی سرگوشیاں۔ ایک دکان کے کونے میں دھول بھری کتاب پڑی تھی — *“چاندنی کے خط”* میں نے یونہی اٹھائی اور صفحے پلٹنے لگا۔
کتاب کے آخری صفحے پر ایک خط چپکا ہوا تھا، پرانی سیاہی میں لکھا ہوا — “اگر کوئی یہ پڑھ رہا ہے، تو جان لے کہ ہر لفظ کسی نہ کسی کے لیے لکھا جاتا ہے۔ شاید تم ہی وہ ہو جس کے لیے میں نے یہ لکھا۔”
نیچے دستخط تھا: *“ن۔ ع۔ 1953”* بس اتنا۔ میں نے کتاب والے سے پوچھا، “یہ کتاب کہاں سے آئی؟” وہ بولا، “ایک بزرگ کے گھر سے، جو ساری عمر لکھتے رہے، مگر کبھی کچھ چھپوایا نہیں۔”
میں نے وہ کتاب خرید لی۔ رات کو کھولی، تو ہر صفحہ جیسے سانس لے رہا تھا۔ تحریر میں وہ سادگی تھی جو دل کو کاٹ کر رکھ دے — جیسے ہر لفظ دل سے بہہ کر آیا ہو۔
اگلے دن میں نے تحقیق کی۔ “ن۔ ع.” دراصل *نعیم عابد* تھے — ایک گمنام شاعر، جنہوں نے تقسیم کے دور میں لکھا، مگر ان کی تحریریں کبھی منظر عام پر نہ آئیں۔ وہ کہتے تھے، “لفظوں کو شہرت نہیں، سچائی چاہیے۔”
میں نے وہ خط بار بار پڑھا۔ جملہ دل میں اتر گیا — *“ہر لفظ کسی نہ کسی کے لیے لکھا جاتا ہے۔”* شاید واقعی کچھ لفظ وقت سے گزر کر اپنے قاری تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔
چند دن بعد میں نے “چاندنی کے خط” دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔ آخری صفحے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے، اچانک لگا جیسے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہو۔ ہوا رکی ہوئی تھی، کمرہ بولا نہیں، مگر کسی نے کہا — “میرا لفظ تم تک پہنچ گیا۔”
میں نے کتاب بند کی، اور دل سے کہا، “ہاں، تمہارا لفظ زندہ ہے — اور اب یہ میری تحریر بن چکا ہے۔”
مفہوم / عکاسی:
“آخری صفحہ” ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ ادب صرف لکھنے کا عمل نہیں —
یہ احساسات کی امانت ہے جو وقت کے پار سفر کرتی ہے۔
سچے الفاظ کبھی نہیں مرتے،
وہ صرف اپنا قاری بدلتے رہتے ہیں۔
— اختتام —