← تمام اردو کہانیاں

ادھورا خط

A handwritten letter on a wooden table near a window, soft evening light, nostalgic mood

الماری کے نچلے خانے میں ایک پرانا لفافہ رکھا تھا۔
نہ پتہ مکمل، نہ خط پورا۔

حارث اسے ہر چند ماہ بعد نکالتا، پڑھتا، اور پھر واپس رکھ دیتا۔

یہ خط اس نے اپنی ماں کے لیے لکھنا شروع کیا تھا—
اُس دن، جس دن وہ خاموشی سے دنیا سے چلی گئی تھی۔

پہلا جملہ تھا:
“امّی، میں ٹھیک ہوں…”

یہاں آ کر قلم رک گیا تھا۔

حارث شہر میں کامیاب تھا،
بڑی نوکری، بڑا گھر—
مگر اندر ایک کمرہ خالی تھا۔

ماں فون پر کہتی تھی:
“بیٹا، بس آواز سن لیا کرو۔”

وہ کہتا:
“امی، مصروف ہوں۔ کل بات کرتا ہوں۔”

وہ “کل” کبھی نہ آیا۔

اب ہر لفظ بھاری تھا۔
“میں ٹھیک ہوں” لکھنا جھوٹ لگتا تھا۔

ایک دن بارش میں بجلی چلی گئی۔
اندھیرے میں حارث نے پھر لفافہ نکالا۔
اس نے پہلی بار خط آگے بڑھایا:

“امّی، میں ٹھیک نہیں تھا، بس مضبوط بننے کی کوشش کر رہا تھا۔”

الفاظ بہنے لگے۔
گِلے، یادیں، معافیاں—سب کاغذ پر اتر آئیں۔

صبح ہوئی تو خط مکمل تھا۔
پتہ اب بھی ادھورا تھا۔

حارث قبرستان گیا۔
خط مٹی پر رکھا،
اور پہلی بار سکون سے رویا۔

اس دن کے بعد اس نے ایک عادت بنا لی—
جو دل میں ہو، وہ ٹالتا نہیں تھا۔



معنی اور سبق—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جذبات کو مؤخر کرنا سب سے مہنگی غلطی ہے۔
جو باتیں آج کہی جا سکتی ہیں، وہ کل شاید سننے والا نہ پائے۔
اظہار کمزوری نہیں—
بلکہ شفا ہے۔
زندگی میں کچھ خط بھیجنے کے لیے نہیں، دل ہلکا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →