چائے والا فلسفی
محلے کی نکڑ پر بابا بشیر کی چائے کی دکان تھی۔
نہ بورڈ نیا، نہ کپ میچنگ کے—
مگر رش ایسا جیسے مفت میں عقل بانٹی جا رہی ہو۔
بابا بشیر چائے بناتے ہوئے کہتا:
“بیٹا، چینی کم ہو تو چائے کڑوی،
اور عقل کم ہو تو زندگی!”
لوگ ہنستے، مگر رک جاتے۔
ایک دن ایک نوجوان آیا،
کہنے لگا:
“بابا جی، زندگی کا مقصد کیا ہے؟”
بابا نے کپ دھوتے ہوئے کہا:
“چینی ڈالوں یا دودھ؟”
نوجوان الجھ گیا۔
“یہ کیا سوال ہے؟”
بابا مسکرایا:
“بس یہی زندگی ہے، بیٹا۔
غلط سوال، صحیح وقت پر!”
ایک دن ایک صاحب آئے،
کہنے لگے:
“بابا، قسمت خراب ہے!”
بابا نے چائے میں جھانک کر کہا:
“کپ الٹا پکڑا ہے، سیدھا کر لو۔”
سب ہنس پڑے—
اور وہ صاحب بھی۔
ایک دن دکان بند تھی۔
محلے میں سنّاٹا۔
شام کو بابا واپس آیا۔
لوگ پوچھنے لگے:
“کہاں تھے؟”
بابا نے کہا:
“چائے پینے گیا تھا۔
خود کو بھی کبھی گاہک بنانا چاہیے!”
اس دن کے بعد دکان پر ایک جملہ لکھا گیا:
“چائے پئیں، سنجیدگی کم کریں۔”
معنی اور سبق—
یہ کہانی ہمیں ہنستے ہنستے یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کو بہت زیادہ مشکل بنانے کی ضرورت نہیں۔
سادگی، مزاح اور تھوڑی سی خود پر ہنسی—
یہی اصل فلسفہ ہے۔
جب مسئلہ بڑا لگے، ایک کپ چائے پی لیں۔
— اختتام —