محلے کا واٹس ایپ انکل
انکل منظور صبح فجر سے پہلے جاگ جاتے تھے۔
نماز بعد تسبیح کم اور موبائل زیادہ چلتا۔
ان کا ماننا تھا:
“جو میسج صبح نہ پڑھے، اس کا دن خراب جاتا ہے۔”
محلے کا واٹس ایپ گروپ انہی کے دم سے زندہ تھا۔
کبھی لکھتے:
“اہم اطلاع!!!”
اور نیچے ہوتا:
“کل سے گرمی زیادہ ہو گی۔”
ایک دن انکل نے میسج بھیجا:
“ثابت شدہ تحقیق: چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھانے سے ذہانت بڑھتی ہے!”
محلے والوں نے فوراً عمل کیا—
کچھ کو واقعی مزہ آ گیا۔
ایک دن انہوں نے سنسنی خیز خبر پھیلائی:
“آج رات بارہ بجے انٹرنیٹ بند!!!”
پورا محلہ پریشان۔
بچوں نے ہوم ورک جلدی کیا،
نوجوانوں نے نیٹ فلکس تیز چلایا۔
بارہ بجے…
کچھ نہ ہوا۔
صبح انکل منظور نے وضاحت دی:
“میرا مطلب تھا، موبائل بند کر کے سو جانا چاہیے۔”
ایک دن گروپ کے ایڈمن نے ہمت کی:
“انکل، خبر کا سورس؟”
انکل نے فخر سے لکھا:
“میرا تجربہ!”
آخرکار گروپ میں ایک نیا رول آیا:
“انکل منظور کے میسج مسکراہٹ کے لیے ہیں، تصدیق کے لیے نہیں۔”
انکل نے پڑھا،
مسکرائے،
اور اگلا میسج بھیج دیا:
“مسکرانا صحت کے لیے اچھا ہے—یہ بات سچی ہے!”
معنی اور سبق—
یہ مزاحیہ کہانی ہمیں ہنسی کے ساتھ یہ سکھاتی ہے کہ ہر فارورڈ سچ نہیں ہوتا،
مگر ہر ہنسی قیمتی ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا کو سنجیدگی نہیں،
سمجھداری اور مزاح کے ساتھ لینا چاہیے۔
سوچیں، پھر فارورڈ کریں—اور کبھی کبھی بس ہنس لیں۔
— اختتام —