ریموٹ کنٹرول کی جنگ
شام سات بجے کا وقت تھا۔
امی نے اعلان کیا:
“ڈراما لگے گا!”
ابو نے اخبار موڑتے ہوئے کہا:
“خبریں!”
بھائی بلال نے فوراً حملہ کیا:
“میچ!”
اور چھوٹی بہن عائشہ نے آخری وار کیا:
“کارٹون!”
ریموٹ میز کے بیچ رکھا تھا—
بالکل کشمیر کی طرح متنازعہ۔
ابو نے حکمتِ عملی اپنائی:
“خبریں قوم کی خدمت ہیں!”
امی نے جواب دیا:
“ڈراما خاندانی اقدار سکھاتا ہے!”
بلال بولا:
“میچ قومی جذبہ ہے!”
عائشہ بولی:
“کارٹون ذہنی سکون!”
اچانک لائٹ چلی گئی۔
سب خاموش۔
دو منٹ بعد لائٹ آئی۔
ریموٹ غائب!
کافی تلاش کے بعد ریموٹ فریج سے ملا۔
کسی نے کچھ نہیں کہا—
سب نے مان لیا کہ جنگ میں کچھ حرکتیں راز ہی رہتی ہیں۔
آخر فیصلہ ہوا:
آدھا گھنٹہ ہر چینل۔
لیکن حقیقت یہ تھی:
سب موبائل پر اپنی مرضی کا دیکھ رہے تھے۔
ٹی وی خاموش تھا،
مگر گھر خوش تھا۔
معنی اور سبق—
یہ ہنسی مذاق کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل مزہ چینل میں نہیں،
ساتھ بیٹھنے میں ہے۔
چھوٹی چھوٹی لڑائیاں ہی گھر کو گھر بناتی ہیں۔
ریموٹ ہاتھ میں ہو یا نہ ہو،
خاندانی وقت سب سے قیمتی ہے۔
— اختتام —