ابو اور گوگل بابا
ابو نے موبائل اٹھایا،
گلا صاف کیا،
اور پورے ادب سے کہا:
“گوگل بابا، موسم کیسا رہے گا؟”
فون نے جواب دیا۔
ابو نے سر ہلایا:
“ٹھیک ہے، اللہ بھلا کرے۔”
امی نے سرگوشی کی:
“یہ اب فون سے بھی دعا کرواتے ہیں!”
ابو ہر سوال میں “بابا” ضرور لگاتے۔
“گوگل بابا، گیس کا بل زیادہ کیوں آیا؟”
جواب آیا:
“گیس کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔”
ابو بولے:
“ہمیشہ یہی بہانہ!”
ایک دن ابو نے رازدارانہ لہجے میں پوچھا:
“گوگل بابا، بچے میری بات کیوں نہیں مانتے؟”
فون خاموش۔
ابو بولے:
“دیکھا، اسے بھی سمجھ نہیں آ رہی!”
محلے والے ابو کو دیکھ کر کہتے:
“یہ فون باتیں کرتا ہے؟”
ابو فخر سے کہتے:
“سنتا بھی ہے!”
آخر ایک دن نیٹ ختم ہو گیا۔
ابو نے موبائل ہلایا،
بولے:
“بابا ناراض ہو گئے ہیں!”
جب نیٹ آیا تو ابو نے کہا:
“بابا، دیر ہو گئی تھی، فکر نہ کریں۔”
معنی اور سبق—
یہ کہانی ہنستے ہنستے ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں—
بس تھوڑا مزاح ساتھ رکھنا چاہیے۔
اور کبھی کبھی،
گوگل سے زیادہ گھر والوں کی بات سن لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
— اختتام —