خاموشی کا قرض
احمد کو لوگ “بہت سمجھدار” کہتے تھے۔
وہ ہر بات میں رائے دیتا، ہر مسئلے کا حل بتاتا اور ہر بحث میں آخری جملہ اسی کا ہوتا۔
لیکن احمد ایک کام کبھی نہیں کرتا تھا… خاموش ہو کر سننا۔
دفتر میں اگر کوئی اپنی مشکل بتاتا تو احمد فوراً مشورے کی بوچھاڑ کر دیتا۔
گھر میں بیوی کچھ کہنا چاہتی تو وہ جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی جواب دے دیتا۔
ماں خاموشی سے دیکھتی، کچھ کہتی نہیں تھی۔
ایک دن دفتر میں نیا لڑکا، علی، آیا۔
وہ کم بولتا تھا، زیادہ سنتا تھا۔
ایک دن میٹنگ کے بعد علی اچانک احمد کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
علی نے کہا:
“سر، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں، اگر آپ سن سکیں تو…”
احمد مسکرایا،
“ہاں ہاں، کہو، میں سن رہا ہوں۔”
علی نے بولنا شروع کیا مگر احمد نے درمیان میں ٹوک دیا،
“دیکھو، تمہیں ایسا کرنا چاہیے، پھر یہ، پھر وہ…”
علی خاموش ہو گیا۔
وہ اٹھا، ہلکی سی مسکراہٹ دی اور بولا:
“شکریہ سر، آپ نے ہمیشہ کی طرح میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی سب کچھ کہہ دیا۔”
یہ جملہ احمد کے دل میں کہیں چبھ گیا، مگر وہ نظرانداز کر گیا۔
چند دن بعد احمد کی ماں بیمار ہو گئیں۔
وہ اسپتال کے بستر پر لیٹی تھیں۔
احمد حسبِ عادت بول رہا تھا، ڈاکٹر، دوائیں، انتظامات… سب کچھ۔
ماں نے آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا:
“بیٹا، ذرا خاموش بیٹھو… میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔”
احمد پہلی بار واقعی خاموش ہوا۔
ماں کی آواز کمزور تھی مگر بات بہت گہری تھی۔
“بیٹا، میں نے ساری زندگی تمہاری باتیں سنیں،
تمہارے جواب دیے بغیر، تمہیں ٹوکے بغیر…
آج مجھے صرف یہ چاہیے کہ کوئی مجھے سن لے۔”
احمد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اسے احساس ہوا کہ وہ برسوں سے خاموشی کا قرض لیتا آیا تھا،
مگر کبھی ادا نہیں کیا۔
ماں کے جانے کے بعد احمد بدل گیا۔
وہ بولتا کم، سنتا زیادہ تھا۔
دفتر میں، گھر میں، دوستوں کے درمیان۔
لوگ حیران تھے کہ احمد اتنا خاموش کیوں ہو گیا ہے۔
مگر احمد جانتا تھا —
وہ اب قرض اتار رہا ہے۔
معنی اور سبق—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
سننا بھی ایک عبادت ہے۔
ہم اکثر بول کر خود کو عقل مند سمجھتے ہیں،
مگر اصل دانائی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے۔
جو انسان دوسروں کو سننے کا وقت دیتا ہے،
وہ دراصل ان کے دل کا احترام کرتا ہے۔
آج خود سے سوال کریں:
- کیا ہم واقعی سنتے ہیں؟
- یا صرف جواب دینے کا انتظار کرتے ہیں؟
تو پچھتاوا بن جاتا ہے۔
— اختتام —