وقت کی قیمت
فہد کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ اس کے پاس وقت نہیں۔
وقت نہیں پڑھنے کا،
وقت نہیں گھر والوں کا،
وقت نہیں دوستوں کا۔
وہ کہتا تھا،
“ابھی میں مصروف ہوں، بعد میں دیکھوں گا۔”
صبح دیر سے اٹھنا،
موبائل پر گھنٹوں اسکرول کرنا،
اور رات کو یہ سوچنا کہ دن کہاں چلا گیا —
یہ فہد کی روز کی عادت بن چکی تھی۔
اس کے محلے میں ایک بزرگ رہتے تھے، جنہیں سب “چاچا سلیم” کہتے تھے۔
وہ ہر صبح فجر کے بعد پارک میں بیٹھ کر اخبار پڑھتے اور پرندوں کو دانہ ڈالتے۔
ایک دن فہد دیر سے دفتر جا رہا تھا تو چاچا سلیم نے آواز دی،
“بیٹا، ذرا رکو۔”
فہد نے گھڑی دیکھی اور بولا،
“چاچا، بہت جلدی میں ہوں۔”
چاچا مسکرائے اور کہا،
“بس ایک منٹ دے دو، پوری زندگی کا فائدہ ہو جائے گا۔”
فہد رک گیا۔
چاچا سلیم نے جیب سے ایک پرانی گھڑی نکالی۔
اس کی سوئیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔
کہنے لگے،
“یہ گھڑی مجھے میرے والد نے دی تھی۔
جب یہ چلتی تھی، میں نے اس کی قدر نہ کی۔
آج یہ بند ہے، مگر وقت کی آواز اب بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔”
فہد خاموشی سے سنتا رہا۔
چاچا نے بات جاری رکھی،
“بیٹا، وقت پیسوں کی طرح نہیں جو دوبارہ کمایا جا سکے۔
یہ سانسوں کی طرح ہے،
ایک گیا تو واپس نہیں آتا۔”
اس دن فہد دفتر تو پہنچ گیا،
مگر اس کا دل بار بار انہی الفاظ کی طرف لوٹتا رہا۔
چند مہینے بعد فہد کی ملازمت چلی گئی۔
وہی وقت، جسے وہ فضول سمجھتا تھا،
اچانک بہت قیمتی لگنے لگا۔
اس نے خود سے وعدہ کیا:
اب وقت کو بہانہ نہیں بناؤں گا۔
وہ صبح جلدی اٹھنے لگا،
ماں کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا،
مطالعہ شروع کیا،
اور چھوٹے کاموں میں خوشی ڈھونڈنے لگا۔
ایک سال بعد فہد کی زندگی بدل چکی تھی۔
وہ کامیاب بھی تھا اور مطمئن بھی۔
ایک دن وہی پارک، وہی بینچ…
مگر چاچا سلیم وہاں نہیں تھے۔
لوگوں نے بتایا،
“وہ تو پچھلے مہینے دنیا سے رخصت ہو گئے۔”
فہد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس نے دل ہی دل میں کہا،
“چاچا، آپ نے ایک منٹ دے کر میری پوری زندگی بدل دی۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
جو لوگ وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتے ہیں،
وہ زندگی کی قدر بھی سیکھ لیتے ہیں۔
ہم اکثر کہتے ہیں:
“کل کر لیں گے”
مگر اصل سوال یہ ہے:
کیا کل واقعی ہمارے پاس ہو گا؟
آج اگر وقت ہے،
تو یہی سب سے بڑی دولت ہے۔
— اختتام —