← تمام اردو کہانیاں

آخری پیغام

A glowing mobile phone on a dark table with unread messages, emotional and dramatic lighting

حارث کو موبائل سے خاص لگاؤ نہیں تھا۔
وہ اکثر پیغامات نظرانداز کر دیتا،
خاص طور پر گھر والوں کے۔

“بعد میں بات کر لوں گا”
یہ جملہ اس کی عادت بن چکا تھا۔

ایک رات وہ دوستوں کے ساتھ دیر تک باہر رہا۔
جب گھر آیا تو موبائل پر بیس سے زیادہ مسڈ کالز تھیں —
سب ماں کی۔

حارث نے فون میز پر رکھ دیا اور سوچا،
“صبح بات ہو جائے گی۔”

صبح آنکھ کھلی تو گھر غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
ماں کمرے میں نہیں تھیں۔
ابو کی آنکھیں سرخ تھیں۔

“ماں کہاں ہیں؟”
حارث نے پوچھا۔

ابو نے صرف اتنا کہا،
“ہسپتال۔”

راستے بھر حارث کے ہاتھ کانپتے رہے۔
وہ بار بار موبائل دیکھتا رہا۔

ہسپتال پہنچ کر معلوم ہوا کہ
ماں رات ہی میں دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔

حارث کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔

کچھ دیر بعد موبائل پر ایک نوٹیفکیشن آیا۔
یہ ماں کا وائس میسج تھا،
جو رات گئے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

آواز کمزور تھی مگر محبت سے بھری ہوئی۔

“بیٹا، میں جانتی ہوں تم مصروف ہو…
بس یہ کہنا تھا کہ
میں نے تمہیں کبھی معاف کرنا نہیں چھوڑا۔
اپنا خیال رکھنا…
اور ہاں،
جب وقت ملے تو گھر جلدی آیا کرنا۔”

حارث پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
وہ پیغام بار بار سنتا رہا۔

اب وہ ہر میسج فوراً پڑھتا ہے، ہر کال واپس کرتا ہے،
مگر ایک نمبر ایسا ہے
جو اب کبھی نہیں بجے گا۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
کچھ پیغامات “بعد میں” کے لیے نہیں ہوتے۔

جو لوگ ہمیں ہر حال میں معاف کر دیتے ہیں،
وہ ہمیشہ ہمارے آس پاس نہیں رہتے۔

آج اگر ماں باپ زندہ ہیں،
تو ایک کال، ایک پیغام،
ان کے دن کا سب سے قیمتی لمحہ ہو سکتا ہے۔

کل شاید بہت دیر ہو جائے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →