خالی بینچ
شام کے وقت پارک میں ایک بینچ ہمیشہ خالی رہتی تھی۔
لوگ آتے، گزرتے،
مگر کوئی وہاں بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔
صرف ایک شخص تھا
جو روز اسی بینچ پر آ کر بیٹھتا تھا —
نام تھا نعمان۔
نعمان خاموش طبیعت کا انسان تھا۔
وہ آتا، بیٹھتا،
اور سامنے کھیلتے بچوں کو دیکھتا رہتا۔
ایک دن ایک لڑکا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
“انکل، آپ اکیلے کیوں بیٹھتے ہیں؟”
نعمان مسکرایا،
“کیونکہ یہاں بیٹھ کر
مجھے خود سے بات کرنے کا وقت ملتا ہے۔”
لڑکا ہنسا اور بھاگ گیا۔
روز شام نعمان اسی وقت آتا۔
لوگوں نے اسے نظرانداز کرنا سیکھ لیا تھا۔
ایک دن بارش ہو رہی تھی۔
پارک تقریباً خالی تھا۔
نعمان پھر بھی آیا اور بینچ پر بیٹھ گیا۔
بارش کے قطرے اس کے چہرے پر گر رہے تھے،
مگر وہ ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔
اگلے دن وہ بینچ خالی رہی۔
پھر اگلے دن بھی۔
تیسرے دن محلے کے ایک شخص نے پوچھا،
“وہ خاموش آدمی کہاں گیا
جو روز یہاں بیٹھتا تھا؟”
کسی کو معلوم نہیں تھا۔
چند دن بعد پارک کے نوٹس بورڈ پر ایک کاغذ لگا تھا:
“نعمان صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
یہ بینچ ان کی آخری پسندیدہ جگہ تھی۔”
اچانک وہ بینچ اہم ہو گئی۔
لوگ وہاں بیٹھنے لگے،
خاموش ہونے لگے،
اور خود سے باتیں کرنے لگے۔
مگر نعمان…
اب کبھی واپس نہیں آیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ
ہر خاموش انسان خالی نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ شور سے نہیں،
خاموشی سے جیتے ہیں۔
ہم اکثر لوگوں کو اُس وقت پہچانتے ہیں
جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہتے۔
آج اگر کوئی خاموش ہے،
تو شاید وہ توجہ نہیں،
بس تھوڑا سا سمجھا جانا چاہتا ہے۔
— اختتام —