ادھورا وعدہ
بلال ہمیشہ کہتا تھا،
“میں وقت پر آ جاؤں گا۔
میں یہ کام ضرور کر دوں گا۔
میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔”
وہ یہ سب وعدے بڑے اعتماد سے کرتا تھا۔
اس کی بہن عائشہ بیمار رہتی تھی۔
اسے اسپتال لے جانا،
دوائیں دلانا،
اور ہمت دینا —
یہ سب بلال کی ذمہ داری تھی۔
ایک دن عائشہ نے آہستہ سے کہا،
“بھائی، کل میرے ساتھ بیٹھنا،
مجھے ڈر لگتا ہے۔”
بلال نے مسکرا کر کہا،
“فکر نہ کرو، میں پورا دن تمہارے ساتھ رہوں گا۔
یہ میرا وعدہ ہے۔”
اگلے دن بلال کو ایک ضروری میٹنگ کا فون آ گیا۔
اس نے سوچا،
“بس ایک گھنٹے کی بات ہے،
پھر آ جاؤں گا۔”
وہ گھنٹہ
دو میں بدل گیا،
اور دو
چار میں۔
جب وہ اسپتال پہنچا
تو کمرے کے باہر خاموشی تھی۔
ڈاکٹر نے صرف اتنا کہا،
“آپ دیر کر گئے۔”
بلال کے کانوں میں شور سا ہونے لگا۔
وہ اندر گیا۔
عائشہ کی آنکھیں بند تھیں،
چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔
بلال نے کانپتے ہاتھوں سے کھولا۔
لکھا تھا:
“بھائی،
اگر تم نہ بھی آ سکو
تو کوئی بات نہیں۔
میں جانتی ہوں
تم نے کوشش کی ہو گی۔”
بلال زمین پر بیٹھ گیا۔
وہ وعدہ،
جو پورا نہ ہو سکا،
ساری زندگی کا بوجھ بن گیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
وعدے الفاظ نہیں، ذمہ داری ہوتے ہیں۔
کچھ لمحے
اور کچھ لوگ
دوبارہ نہیں ملتے۔
اگر آپ نے کسی سے کہا ہے
“میں آ جاؤں گا”
تو سمجھ لیں
آپ نے اس کے دل کو تھام لیا ہے۔
ادھورا وعدہ
اکثر پوری زندگی ادھورا کر دیتا ہے۔
— اختتام —