← تمام اردو کہانیاں

دروازہ جو کبھی نہیں کھلا

A closed wooden door in an old house with light coming through the cracks, mysterious and emotional mood

پرانے محلے کے آخری کونے میں ایک چھوٹا سا گھر تھا۔
اس گھر کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔

لوگ کہتے تھے،
“وہاں کوئی نہیں رہتا۔”

مگر حقیقت یہ تھی
کہ وہاں کوئی رہتا تھا —
نام تھا حنیف۔

حنیف روز صبح دروازہ صاف کرتا،
تالا چیک کرتا،
اور پھر اندر چلا جاتا۔

شام کو وہ کرسی لا کر
دروازے کے پاس رکھ لیتا
جیسے کسی کا انتظار ہو۔

پچیس سال پہلے
اسی دروازے سے اس کا بیٹا باہر نکلا تھا۔
غصے میں،
اونچی آواز میں۔

کہا تھا،
“میں واپس نہیں آؤں گا۔”

حنیف نے بھی ضد میں
دروازہ بند کر دیا تھا۔
یہ سوچ کر کہ
“جب آئے گا،
تو خود کھٹکھٹائے گا۔”

دن مہینوں میں بدلے،
مہینے سالوں میں۔

ایک دن محلے کا لڑکا آیا اور بولا،
“چچا، باہر کوئی کھڑا ہے،
دروازہ کھلوانا چاہتا ہے۔”

حنیف کا دل تیز دھڑکا۔
اس نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔

مگر پھر رک گیا۔

“اتنے سال بعد؟
اب کیوں؟”

وہ واپس کرسی پر بیٹھ گیا۔
باہر سے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
پھر خاموشی۔

اگلی صبح اخبار میں خبر تھی:
“نامعلوم شخص سڑک حادثے میں جاں بحق۔”

حنیف نے تصویر دیکھی۔
وہی چہرہ تھا۔

اس دن
دروازہ پہلی بار کھلا،
مگر بہت دیر سے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ
کچھ ضدیں بہت مہنگی پڑتی ہیں۔

اگر کوئی دروازہ کھٹکھٹائے،
تو یہ نہ سوچیں
کہ “اب کیوں؟”

شاید وقت
دوبارہ دستک نہ دے۔

رشتوں کے دروازے
تالوں کے بغیر بھی بند ہو سکتے ہیں،
اور اکثر
ہم خود ہی چابی گرا دیتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →