← تمام اردو کہانیاں

آدھا چراغ

A small oil lamp glowing in a dark rural house at night, emotional and hopeful mood

سلیم کے گھر میں شام ہمیشہ جلدی اتر آتی تھی۔ کچی دیواریں، ٹوٹی چھت، اور ایک کونے میں رکھا مٹی کا چراغ — جو اکثر آدھا ہی جلتا تھا۔ تیل کم ہوتا، اس لیے ماں ہمیشہ بتی چھوٹی رکھتی۔

سلیم دس سال کا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں عمر سے زیادہ سمجھ تھی۔ باپ کو گزرے تین سال ہو چکے تھے۔ ماں محنت مزدوری کرتی، اور سلیم دن میں اسکول، شام کو دکان پر کام کرتا۔

ایک رات بارش تیز تھی۔ بجلی تو ویسے بھی نہیں آتی تھی۔ ماں نے چراغ جلایا، مگر وہ ٹھیک سے روشن نہ ہوا۔
ماں نے آہ بھری:
“کاش یہ چراغ پورا جلتا…”

سلیم نے مسکرا کر کہا:
“ماں، آدھا بھی کافی ہے۔ ہمیں بس راستہ دکھانا ہے۔”

وہی آدھا چراغ سلیم کی پڑھائی کا ساتھی بن گیا۔ وہ اس کی روشنی میں کتابیں پڑھتا، سوال حل کرتا، اور خواب بُنتا۔ استاد نے ایک دن کہا:
“سلیم، تمہارے پاس وسائل کم ہیں، مگر ہمت بہت زیادہ۔”

وقت گزرتا گیا۔ حالات ویسے ہی رہے، مگر سلیم کا حوصلہ بڑھتا گیا۔ ایک دن اسکول میں اسکالرشپ کا اعلان ہوا۔ سلیم نے فارم بھرا، دل ڈرتا رہا، مگر امید زندہ تھی۔

نتیجہ آیا تو سلیم کا نام سب سے اوپر تھا۔

وہ خوشی خوشی گھر آیا۔ ماں نے چراغ جلایا، مگر اس دن بتی خودبخود تیز جلنے لگی۔ ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“آج چراغ پورا جل رہا ہے، سلیم۔”

سلیم نے آہستہ سے کہا:
“نہیں ماں، آج ہمیں اندھیرے کی عادت نہیں رہی۔”

چراغ وہی تھا، مگر سلیم بدل چکا تھا۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

آدھا چراغ اس بات کی علامت ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو تو چھوٹی سی روشنی بھی پوری زندگی روشن کر سکتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →