← تمام اردو کہانیاں

وقت کی مٹھی

An old man's hands holding sand slipping through fingers, soft light, emotional and reflective mood

فراز ہمیشہ جلدی میں رہتا تھا۔
جلدی دفتر پہنچنے کی، جلدی ترقی کرنے کی، جلدی امیر ہونے کی۔ اس کی گھڑی ہمیشہ اس کے مزاج سے تیز چلتی تھی۔

اس کا ماننا تھا کہ جو وقت کے پیچھے نہ بھاگا، وہ پیچھے رہ گیا۔

ایک دن دفتر سے واپسی پر اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ شام ڈھل چکی تھی۔ مجبوراً اسے ایک پرانی بس میں بیٹھنا پڑا۔ بس آہستہ چل رہی تھی، اور فراز کا صبر ختم ہو رہا تھا۔

اسی بس میں ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، جیسے ہر منظر کو سانسوں میں بھر رہا ہو۔
فراز بےچینی سے بولا:
“یہ بس اتنی سست کیوں ہے؟ وقت ضائع ہو رہا ہے!”

بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
“وقت ضائع نہیں ہوتا بیٹا، ہم ضائع ہو جاتے ہیں۔”

فراز چونک گیا۔
“آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”

بوڑھے نے مٹھی بند کی اور کہا:
“جب تم وقت کو مٹھی میں قید کرتے ہو، تو یہ ریت بن کر پھسل جاتا ہے۔”
پھر مٹھی کھول کر بولا:
“اور جب اسے بہنے دیتے ہو، تو یہ زندگی بن جاتا ہے۔”

بس ایک اسٹاپ پر رکی۔ بوڑھا اتر گیا، مگر فراز کے دل میں ایک ٹھہراؤ اتر آیا۔

اگلے دن فراز نے پہلی بار گھڑی اتار دی۔
وہ ماں کے ساتھ بیٹھا، چائے پی۔
راستے میں بچے کو کھیلتا دیکھا، مسکرا دیا۔
دفتر میں ایک ساتھی کی بات سنی — واقعی سنی۔

وہی وقت تھا، مگر اب بھاگ نہیں رہا تھا۔

کچھ مہینوں بعد فراز کو ترقی ملی، مگر اس بار اس نے اسے فتح نہیں سمجھا۔
اس نے بس اتنا کہا:
“میں نے وقت کو نہیں پکڑا، میں نے خود کو سنبھال لیا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

وقت کی مٹھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بند نہیں، دل کھلا رکھنا پڑتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →