ٹوٹا ہوا وقت
کامران کی دیوار پر لگی گھڑی کئی دنوں سے بند تھی۔
سوئیاں ایک ہی وقت پر رکی ہوئی تھیں — جیسے کسی یاد پر اٹک گئی ہوں۔
گھڑی بند تھی، مگر کامران کی زندگی بدستور دوڑ رہی تھی۔
دوڑ ذمہ داریوں کی، توقعات کی، اور ان وعدوں کی جو اس نے خود سے کیے تھے۔
ایک دن اس کی ماں نے کہا:
“بیٹا، یہ گھڑی ٹھیک کیوں نہیں کرواتے؟”
کامران نے بےدلی سے جواب دیا:
“وقت تو ویسے ہی نہیں رکتا، گھڑی ٹھیک کر کے کیا ہوگا؟”
ماں خاموش ہو گئی۔
چند دن بعد کامران کی نوکری ختم ہو گئی۔
اچانک، بغیر کسی تنبیہ کے۔
اسی دن اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وقت ہمیشہ آگے نہیں بھاگتا — کبھی ہمیں روک بھی دیتا ہے۔
وہ دن گھر میں بیٹھ کر گزرتے تھے۔
کامران بار بار اسی بند گھڑی کو دیکھتا۔
سوئیاں نہیں ہلتیں تھیں، مگر یادیں چلتی رہتی تھیں۔
ایک رات ماں نے وہی گھڑی اتار کر میز پر رکھ دی۔
کہنے لگی:
“بیٹا، یہ گھڑی ٹوٹی نہیں، بس رک گئی ہے۔
انسان بھی کبھی رک جائے تو ٹوٹا نہیں کہلاتا۔”
وہ جملہ کامران کے دل میں اتر گیا۔
اس نے خود کو وقت دیا۔
جلدی کے فیصلے چھوڑ دیے۔
پھر آہستہ آہستہ نئی راہیں کھلنے لگیں۔
چند ماہ بعد جب اسے نئی نوکری ملی،
اس نے گھڑی مرمت نہیں کروائی۔
وہ جان چکا تھا کہ اصل وقت اس کے اندر چل رہا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- رک جانا ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتا
- کچھ وقفے زندگی کی مرمت کے لیے ہوتے ہیں
- وقت ہمیں نہیں توڑتا، ہمیں سمجھاتا ہے
- خود کو وقت دینا سب سے بڑی دانشمندی ہے
— اختتام —