← تمام اردو کہانیاں

کچی سیڑھیاں

A narrow unfinished concrete staircase in a modest house, soft morning light, hopeful and realistic mood

نذیر کے گھر کی سیڑھیاں ابھی مکمل نہیں بنی تھیں۔ کچھ سیڑھیاں پکی تھیں، کچھ صرف اینٹوں سے جڑی ہوئی۔ بارش میں ان پر چلنا مشکل ہو جاتا تھا، مگر نذیر روز انہی سے اوپر جاتا۔

وہ اوپر والے کمرے میں کرائے دار تھا۔ نیچے کا حصہ مالک مکان کا تھا، اور نذیر کی زندگی بھی انہی ادھوری سیڑھیوں جیسی تھی — آدھی بنی، آدھی باقی۔

صبح وہ جلدی اٹھتا، مزدوری کے لیے نکلتا، اور شام کو تھکا ہارا واپس آتا۔ لوگ کہتے تھے: “نذیر، اتنی محنت کے باوجود بھی تم وہیں کے وہیں ہو۔”

نذیر مسکرا دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ سیڑھیاں کچی ہوں تو قدم سنبھال کر رکھنے پڑتے ہیں، مگر یہی احتیاط آگے لے جاتی ہے۔

ایک دن بارش میں ایک شخص پھسل گیا۔ نذیر نے فوراً اسے تھام لیا۔ وہ شخص ایک ٹھیکیدار تھا۔

باتوں باتوں میں نذیر کی محنت اور سمجھداری سامنے آ گئی۔ چند دن بعد اسی ٹھیکیدار نے اسے مستقل کام کی پیشکش کی۔

مہینوں بعد نذیر کے گھر کی سیڑھیاں مکمل ہو گئیں۔ مگر نذیر نے ایک سیڑھی جان بوجھ کر کچی ہی چھوڑ دی۔

کوئی پوچھتا تو کہتا: “یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ میں کہاں سے چڑھا تھا۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کچی سیڑھیاں اس حقیقت کی علامت ہیں کہ زندگی میں پختگی وقت کے ساتھ آتی ہے، مگر سفر کچے قدموں سے ہی شروع ہوتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →