سانسوں کا قرض
دانش کو ہمیشہ اپنی صحت پر ناز تھا۔ وہ کہتا تھا: “میں مضبوط ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوگا۔”
کام، دوست، مصروفیات — سب کچھ اس کی رفتار سے چلتا تھا۔ وہ رکتا نہیں تھا، سوچتا نہیں تھا۔
ایک صبح سینے میں شدید درد اٹھا۔ اگلے لمحے وہ اسپتال کے بستر پر تھا۔
ڈاکٹر نے کہا: “خطرہ ٹل گیا ہے، مگر اب زندگی کو ہلکا مت لیجیے۔”
دانش خاموش ہو گیا۔ مشین کی بیپ… بیپ… اسے اپنی سانسوں کی آواز سننے پر مجبور کر رہی تھی۔
اسی وارڈ میں ایک بوڑھا مریض تھا۔ وہ ہر سانس پر آہستہ سے کہتا: “شکر ہے۔”
دانش نے پوچھا: “آپ کیوں بار بار شکر ادا کرتے ہیں؟”
بوڑھے نے مسکرا کر کہا: “بیٹا، ہر سانس ایک قرض ہے۔ جو شکر ادا کرے، وہ قرض اتارتا رہتا ہے۔”
دانش کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
صحت یاب ہو کر جب وہ باہر آیا، اس نے رفتار کم کر دی۔ ماں کے پاس بیٹھا۔ فضول شکایات چھوڑ دیں۔
اب وہ ہر صبح گہری سانس لیتا اور دل ہی دل میں کہتا: “آج کا قرض ادا ہو گیا۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- زندگی حق نہیں، امانت ہے
- ہر سانس ایک نعمت ہے، جس کا شکر ضروری ہے
- صحت جانے پر نہیں، رہتے ہوئے سمجھی جائے
- شکرگزاری انسان کو عاجزی سکھاتی ہے
— اختتام —