← تمام اردو کہانیاں

ادھورا سایہ

A person standing alone under a streetlight at night, casting a fragmented shadow on the ground, emotional and introspective mood

سہیل کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ دوسروں سے کم ہے۔
کم بولتا، کم ہنستا، اور ہر محفل میں خود کو پیچھے رکھتا۔

اس کا مسئلہ صلاحیت کا نہیں تھا، اعتماد کا تھا۔

ایک رات وہ دیر تک دفتر میں رکا رہا۔
واپسی پر سڑک سنسان تھی، اور اسٹریٹ لائٹ کے نیچے اس کا سایہ ٹوٹا ٹوٹا نظر آ رہا تھا۔

سہیل رک گیا۔
اس نے اپنے سائے کو غور سے دیکھا۔
“میں بھی ایسا ہی ہوں؟ ادھورا؟”

اسی لمحے ایک راہگیر گزرا۔
اس نے کہا: “بھائی، روشنی ایک طرف ہے، اس لیے سایہ ٹوٹ رہا ہے۔
روشنی بدل جائے، سایہ بھی پورا ہو جاتا ہے۔”

یہ جملہ سہیل کے دل میں اتر گیا۔

اگلے دن اس نے میٹنگ میں پہلی بار اپنی رائے دی۔
آواز کانپی، مگر وہ بولا۔
لوگوں نے سنا۔

آہستہ آہستہ وہ بدلنے لگا۔
اعتماد آیا، لفظ آئے، مسکراہٹ آئی۔

ایک دن اس نے پھر اپنا سایہ دیکھا۔
وہ اب بھی بدلتا رہتا تھا،
مگر سہیل جان چکا تھا —
سایہ نہیں، انسان اصل ہوتا ہے۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ادھورا سایہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کم نہیں ہوتے، بس خود کو غلط روشنی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →