ادھورا سایہ
سہیل کو ہمیشہ لگتا تھا کہ وہ دوسروں سے کم ہے۔
کم بولتا، کم ہنستا، اور ہر محفل میں خود کو پیچھے رکھتا۔
اس کا مسئلہ صلاحیت کا نہیں تھا، اعتماد کا تھا۔
ایک رات وہ دیر تک دفتر میں رکا رہا۔
واپسی پر سڑک سنسان تھی، اور اسٹریٹ لائٹ کے نیچے اس کا سایہ ٹوٹا ٹوٹا نظر آ رہا تھا۔
سہیل رک گیا۔
اس نے اپنے سائے کو غور سے دیکھا۔
“میں بھی ایسا ہی ہوں؟ ادھورا؟”
اسی لمحے ایک راہگیر گزرا۔
اس نے کہا:
“بھائی، روشنی ایک طرف ہے، اس لیے سایہ ٹوٹ رہا ہے۔
روشنی بدل جائے، سایہ بھی پورا ہو جاتا ہے۔”
یہ جملہ سہیل کے دل میں اتر گیا۔
اگلے دن اس نے میٹنگ میں پہلی بار اپنی رائے دی۔
آواز کانپی، مگر وہ بولا۔
لوگوں نے سنا۔
آہستہ آہستہ وہ بدلنے لگا۔
اعتماد آیا، لفظ آئے، مسکراہٹ آئی۔
ایک دن اس نے پھر اپنا سایہ دیکھا۔
وہ اب بھی بدلتا رہتا تھا،
مگر سہیل جان چکا تھا —
سایہ نہیں، انسان اصل ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- احساسِ کمتری حقیقت نہیں، زاویۂ نظر ہوتا ہے
- اپنی روشنی پہچان لی جائے تو سایہ خود سنور جاتا ہے
- بولنے کی ہمت ہی پہلا قدم ہے
- خود پر یقین آ جائے تو ادھورا پن ختم ہو جاتا ہے
— اختتام —