نمکین ہوا
عمر نے برسوں بعد سمندر دیکھا تھا۔
وہی نیلا پھیلاؤ، وہی نمکین ہوا — مگر وہ خود بدل چکا تھا۔
گاؤں چھوڑے اسے پندرہ سال ہو گئے تھے۔
روزگار کی تلاش اسے شہر لے آئی تھی، اور شہر نے اسے مصروف تو بنا دیا، مگر پورا نہ کر سکا۔
وہ شام کو ساحل پر کھڑا تھا۔
ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا تو بچپن کی یادیں جاگ اٹھیں۔
باپ کے ساتھ ماہی گیری، ماں کے ہاتھوں کی خوشبو، اور نمک سے بھیگے کپڑے۔
ایک بوڑھا ماہی گیر قریب آ بیٹھا۔
اس نے پوچھا:
“پہلی بار آئے ہو؟”
عمر مسکرا دیا:
“نہیں، بس بہت دیر سے واپس آیا ہوں۔”
بوڑھے نے سمندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“سمندر کبھی کسی کو روک کر نہیں رکھتا،
مگر جو اس سے جڑ جائے، وہ کہیں اور پورا نہیں ہوتا۔”
یہ بات عمر کے دل میں اتر گئی۔
اگلے دن عمر نے شہر واپسی کا ٹکٹ منسوخ کر دیا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہیں کچھ شروع کرے گا۔
کم سہی، مگر اپنا۔
نمکین ہوا اس دن کچھ زیادہ ہی تیز تھی،
جیسے سمندر مسکرا رہا ہو۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- جڑیں چھوڑنے سے انسان آگے تو بڑھتا ہے، مگر ہلکا ہو جاتا ہے
- ہر واپسی کمزوری نہیں ہوتی
- اپنی مٹی اور یادیں انسان کو مکمل کرتی ہیں
- خوشی اکثر وہاں ہوتی ہے جہاں سے ہم چلے تھے
— اختتام —