بند کھڑکی
زینب کا کمرہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔
پردے گرے ہوتے، کھڑکی مقفل، اور روشنی صرف بلب کی حد تک محدود۔
اسے لگتا تھا کہ باہر کی دنیا بہت شور مچاتی ہے،
اور وہ شور اس کے دل کو مزید تھکا دیتا ہے۔
طلاق کے بعد وہ خود کو سمیٹ کر رہ گئی تھی۔
لوگ ہمدردی کرتے، سوال پوچھتے،
اور زینب ہر سوال سے خود کو بند کرتی جاتی۔
ایک دن بجلی چلی گئی۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
اس نے بےاختیار کھڑکی کی طرف دیکھا —
وہی کھڑکی جسے اس نے مہینوں سے نہیں کھولا تھا۔
کچھ دیر ہچکچانے کے بعد
اس نے کنڈی کھولی۔
تھوڑی سی روشنی اندر آئی۔
ہوا نے پردے ہلائے۔
نیچے بچے کھیل رہے تھے،
کہیں دور کوئی ہنس رہا تھا۔
زینب کی آنکھیں بھر آئیں۔
وہ باہر نہیں نکلی،
مگر کھڑکی بند بھی نہیں کی۔
اگلے دن اس نے کھڑکی صبح ہی کھول دی۔
پھر آہستہ آہستہ
پردے ہٹنے لگے،
دروازے کھلنے لگے،
اور دل بھی۔
دنیا وہی تھی،
مگر اب زینب اس میں شامل تھی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- تنہائی کبھی کبھی خودساختہ ہوتی ہے
- روشنی ہمیشہ باہر موجود ہوتی ہے
- پہلا قدم چھوٹا ہوتا ہے، مگر فیصلہ بڑا
- دل کی کھڑکی کھل جائے تو زندگی خود اندر آ جاتی ہے
— اختتام —