دیوار کے اُس پار روشنی
عادل کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اس کی زندگی ایک بند کمرہ ہے۔
چار دیواریں، ایک چھت، اور نہ کوئی کھڑکی، نہ روشن دان۔
صبح دفتر جانا، شام کو لوٹ آنا،
چائے کا کپ، موبائل اسکرول کرنا،
اور رات کو بغیر کسی خواب کے سو جانا۔
وہ ہنستا ضرور تھا، مگر آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر نہیں۔
آئینہ اُسے وہ سوال یاد دلاتا تھا جس سے وہ برسوں بھاگتا آیا تھا:
"کیا یہی سب کچھ ہے؟"
ایک دن، بارش کے بعد،
اس نے کمرے کی پچھلی دیوار پر ایک باریک دراڑ دیکھی۔
نہ جانے کب بنی تھی، مگر آج اُس میں سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی۔
عادل نے انگلی سے اُسے چھوا۔
دیوار ٹھنڈی تھی، مگر روشنی گرم۔
اگلے کئی دن وہ دراڑ اُسے اپنی طرف کھینچتی رہی۔
دفتر میں فائلوں کے بیچ،
بس میں بیٹھے،
حتیٰ کہ سوتے وقت بھی،
وہ روشنی اُسے بلاتی رہی۔
ایک رات،
جب شہر سو رہا تھا،
عادل نے ہتھوڑا اٹھایا۔
یہ آسان نہیں تھا۔
ہر ضرب کے ساتھ
اس کے اندر کا خوف چیختا،
"اگر اُس پار بھی اندھیرا ہوا تو؟"
مگر اس نے ضربیں روکیں نہیں۔
جب دیوار گری،
تو اُس پار کوئی جنت نہیں تھی،
نہ ہی کوئی معجزہ۔
وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا—
مگر اُس میں کھڑکی تھی۔
کھڑکی کے باہر آسمان نظر آ رہا تھا۔
ستارے۔
چاند۔
عادل دیر تک کھڑا رہا۔
خاموش۔
مگر اس خاموشی میں پہلی بار سکون تھا۔
اُس نے کھڑکی کھولی۔
ٹھنڈی ہوا اندر آئی۔
اور عادل نے محسوس کیا:
دیوار ہمیشہ باہر نہیں ہوتی،
اکثر ہم خود اُسے مضبوط رکھتے ہیں۔
اُس رات کے بعد،
عادل کی زندگی مکمل طور پر نہیں بدلی،
مگر اُس کا رخ بدل گیا تھا۔
اور کبھی کبھی،
بس یہی کافی ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہماری سب سے بڑی قید اکثر ہمارے اپنے خوف ہوتے ہیں
- تبدیلی ہمیشہ شور کے ساتھ نہیں آتی
- کبھی کبھی ایک چھوٹی سی دراڑ بھی امید کے لیے کافی ہوتی ہے
- زندگی بہتر ہونے سے پہلے مختلف ہوتی ہے
— اختتام —