← تمام اردو کہانیاں

خاموش گھڑی

An old wall clock in a quiet room, soft moonlight coming through a window, nostalgic and emotional mood

گھر کے ڈرائنگ روم کی دیوار پر لٹکی وہ پرانی گھڑی
پچھلے سات سال سے بند تھی۔

سلیم نے کئی بار سوچا اسے اُتار دے،
مگر ہر بار ہاتھ رک گیا۔

یہ وہی گھڑی تھی
جو اُس کے والد نے اپنی پہلی تنخواہ سے خریدی تھی۔
ہر گھنٹے کی ٹک ٹک
گھر میں نظم و ضبط کی طرح پھیلی رہتی تھی۔

“وقت کی قدر کیا کرو،”
ابا کہا کرتے تھے،
اور سلیم ہنستے ہوئے سر ہلا دیتا تھا۔

وقت گزر گیا۔
ابا چلے گئے۔
اور گھڑی بھی خاموش ہو گئی۔

گھر میں سب کچھ چلتا رہا،
مگر وقت جیسے رُک سا گیا تھا۔

سلیم ایک مصروف انسان تھا۔
دفتر، میٹنگز، فائلیں، فون کالز۔
مگر جیسے ہی وہ گھر آتا،
وہ خاموش گھڑی اُس پر بوجھ بن جاتی۔

ایک رات،
بجلی چلی گئی۔
مکمل اندھیرا۔

سلیم نے موبائل کی روشنی جلائی
اور بےاختیار گھڑی کی طرف دیکھا۔

اُسے یاد آیا
کہ بچپن میں بجلی جانے پر
ابا اُسے اپنے پاس بٹھا لیتے تھے
اور کہتے تھے:
“اندھیرا صرف آنکھوں میں ہوتا ہے، وقت میں نہیں۔”

اُسی لمحے
سلیم نے فیصلہ کیا۔

اگلے دن وہ گھڑی ساز کے پاس گیا۔
صفائی، مرمت، نیا اسپرنگ۔

شام کو
جب گھڑی دوبارہ دیوار پر لگی
اور پہلی بار ٹک ٹک کی آواز آئی،
سلیم کی آنکھیں بھر آئیں۔

وہ آواز شور نہیں تھی،
یاد تھی۔
ذمہ داری تھی۔
محبت تھی۔

اب گھڑی ہر گھنٹے بجتی ہے۔
سلیم کبھی اُسے بند نہیں کرتا۔

کیونکہ اب وہ جان چکا ہے:
کچھ چیزیں چلتی رہیں تو
ہمیں انسان بنائے رکھتی ہیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کے گھر میں بھی کوئی “خاموش گھڑی” ہے، تو شاید وہ آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →