← تمام اردو کہانیاں

چولہے کے پاس رکھی دعا

A simple kitchen at night, an old stove with a dim flame, a woman sitting quietly beside it, warm and emotional lighting

گھر کے پچھلے حصے میں بنا چھوٹا سا کچن
اکثر رات گئے تک روشن رہتا تھا۔

چولہے پر دھیمی آنچ،
اور اُس کے پاس بیٹھی زینب۔

وہ جانتی تھی
کہ سب سو گئے ہیں،
اور اب اُسے بھی آرام کرنا چاہیے،
مگر اس کے ہاتھ رُکتے نہیں تھے۔

روٹیاں سینکتے ہوئے
وہ ہر ایک کے حصے کا خیال رکھتی۔
بڑے بیٹے کو موٹی،
چھوٹے کو نرم،
اور شوہر کے لیے ذرا زیادہ۔

اپنے لیے؟
اگر بچ گئی تو۔

زینب کبھی شکوہ نہیں کرتی تھی۔
نہ تنگی کا،
نہ تھکن کا،
نہ اُن خوابوں کا
جو شادی کے بعد
خاموشی سے الماری میں بند ہو گئے تھے۔

بچوں کو لگتا تھا
امی بس گھر پر رہتی ہیں۔
کام نہیں کرتیں۔

ایک دن
بڑا بیٹا علی بولا:
“امی، آپ سارا دن کرتی ہی کیا ہیں؟”

سوال معصوم تھا،
مگر زینب کے دل میں
جیسے کوئی چنگاری سی لگی۔

وہ مسکرا دی۔
“بس دعا کرتی ہوں۔”

رات کو
جب سب سو گئے،
زینب حسبِ معمول چولہے کے پاس بیٹھی۔

اس دن آنکھیں ذرا زیادہ بھیگ گئی تھیں۔

اس نے ہاتھ اُٹھائے۔
کسی لمبی فہرست کے بغیر۔

بس اتنا کہا:
“یا اللہ،
میرے بچوں کو کبھی یہ سوال
خود سے پوچھنا نہ پڑے
کہ ان کے پاس کیا نہیں تھا۔”

وقت گزرتا گیا۔

علی بڑا ہو گیا۔
نوکری، شہر، مصروفیات۔

ایک دن
امی بیمار ہو گئیں۔

علی گاؤں آیا۔
گھر میں داخل ہوا تو
کچن اندھیرے میں ڈوبا تھا۔

چولہا ٹھنڈا۔

اس نے پہلی بار
خود روٹی بنائی۔
جل گئی۔

اُسی لمحے
اُسے سمجھ آیا
کہ ماں نے کیا کیا تھا۔

وہ چولہے کے پاس بیٹھ گیا۔
اور بےساختہ بول پڑا:
“امی، آپ واقعی بہت دعائیں کرتی تھیں…”

زینب نے آنکھیں کھولیں۔
ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

“ہاں بیٹا،
اور دعا کا اثر
دیر سے
مگر گہرا ہوتا ہے۔”



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کی ماں آج خاموشی سے کام کر رہی ہے، تو شاید وہ بھی چولہے کے پاس کوئی دعا رکھ رہی ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →