آخری پیغام
موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔
ایک نیا پیغام۔
نام: امی
عمر نے فون ہاتھ میں لیا،
مگر کھولا نہیں۔
وہ ناراض تھا۔
چھوٹی سی بات،
بڑی خاموشی بن گئی تھی۔
پیغام پڑا رہا۔
ایک دن۔
پھر دوسرا۔
تیسرے دن
فون بجا۔
اس بار پیغام نہیں تھا۔
آواز تھی۔
امی ہسپتال میں تھیں۔
عمر دوڑا۔
سانس، قدم، دل—
سب بے ترتیب۔
کمرے میں داخل ہوا۔
امی سو رہی تھیں۔
اس نے موبائل کھولا۔
وہی آخری پیغام:
“بیٹا، کھانا وقت پر کھا لیا کرو۔”
عمر نے اسکرین سینے سے لگا لی۔
پیغام مختصر تھا۔
مگر اب
اس کا جواب
پوری زندگی بن گیا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر پیغام جواب نہیں مانگتا، توجہ مانگتا ہے
- ماں کی محبت نصیحت کے لباس میں ہوتی ہے
- خاموشی اکثر بعد میں شور بن جاتی ہے
- وقت پر دیا گیا جواب، بعد کی پشیمانی سے بہتر ہے
— اختتام —