← تمام اردو کہانیاں

آخری پیغام

A smartphone lying on a wooden table at night, one unread message glowing softly, emotional and minimal mood

موبائل کی اسکرین روشن ہوئی۔

ایک نیا پیغام۔
نام: امی

عمر نے فون ہاتھ میں لیا،
مگر کھولا نہیں۔

وہ ناراض تھا۔
چھوٹی سی بات،
بڑی خاموشی بن گئی تھی۔

پیغام پڑا رہا۔
ایک دن۔
پھر دوسرا۔

تیسرے دن
فون بجا۔

اس بار پیغام نہیں تھا۔
آواز تھی۔

امی ہسپتال میں تھیں۔

عمر دوڑا۔
سانس، قدم، دل—
سب بے ترتیب۔

کمرے میں داخل ہوا۔
امی سو رہی تھیں۔

اس نے موبائل کھولا۔
وہی آخری پیغام:

“بیٹا، کھانا وقت پر کھا لیا کرو۔”

عمر نے اسکرین سینے سے لگا لی۔

پیغام مختصر تھا۔
مگر اب
اس کا جواب
پوری زندگی بن گیا تھا۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آج کسی کا پیغام نظرانداز کر رہے ہیں، تو ذرا رُک کر سوچ لیجیے— کہیں وہ آخری تو نہیں؟


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →