آئینے سے ہوتی گفتگو
وہ ہر رات سونے سے پہلے
آئینے کے سامنے چند لمحے ضرور ٹھہرتا تھا۔
کمرہ خاموش،
روشنی مدھم،
اور سامنے کھڑا ایک ایسا شخص
جسے وہ دن بھر نظر انداز کرتا رہتا تھا۔
کامران کامیاب تھا۔
کم از کم کاغذوں میں۔
اچھی نوکری،
صاف ستھرا فلیٹ،
اور ایک مصروف شیڈول
جو اُسے سوال کرنے کا وقت نہیں دیتا تھا۔
آئینہ مگر سوال نہیں پوچھتا تھا،
بس دکھاتا تھا۔
ایک چہرہ
جس پر مسکراہٹ وقت پر آ جاتی تھی،
مگر آنکھوں تک نہیں پہنچتی تھی۔
ایک رات
کامران نے آئینے سے نظریں ملائیں
اور بےساختہ بول پڑا:
“تھک نہیں گئے؟”
آئینہ خاموش رہا۔
مگر اُس خاموشی میں
برسوں کی دبی آوازیں گونج گئیں۔
وہ یاد کرنے لگا
کہ کب اُس نے آخری بار
بغیر مقصد کے ہنسا تھا۔
کب اُس نے
کسی کو صرف سننے کے لیے وقت دیا تھا۔
کب اُس نے
خود کو معاف کیا تھا۔
اُس رات
کامران نے سونے سے پہلے
اپنا موبائل بند کر دیا۔
کھڑکی کھولی۔
ہوا اندر آئی۔
اور پہلی بار
اس نے آئینے سے نظریں چرا کر نہیں،
مسکرا کر الوداع کہا۔
اگلی صبح
کچھ بدلا نہیں تھا۔
دفتر وہی تھا۔
لوگ وہی تھے۔
مگر کامران مختلف تھا۔
وہ اب
آئینے سے باتیں چھپاتا نہیں تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- تنہائی ہمیشہ خالی نہیں ہوتی، کبھی آئینہ بن جاتی ہے
- خود سے بات کرنا کمزوری نہیں، ہمت ہے
- اصل مکالمہ باہر نہیں، اندر ہوتا ہے
- جب ہم خود کو سن لیتے ہیں، تو دنیا کم شور کرتی ہے
— اختتام —