ایک قدم پیچھے، دو قدم آگے
اس دن حارث دفتر دیر سے پہنچا۔
نہ اس لیے کہ ٹریفک تھا،
بلکہ اس لیے کہ اس کے قدم بھاری تھے۔
پچھلے دس سال
وہ اسی کرسی پر بیٹھا تھا۔
وہی فائلیں،
وہی ای میلز،
وہی محفوظ تنخواہ۔
لوگ کہتے تھے:
“مبارک ہو، سیٹل ہو گئے ہو۔”
مگر حارث جانتا تھا
کہ وہ رُک گیا ہے،
سیٹل نہیں ہوا۔
اسی صبح
اسے ایک ای میل ملی۔
مختصر سی۔
“ہمیں آپ کا جواب چاہیے۔
آج شام تک۔”
یہ اُس اسکالرشپ کا جواب تھا
جس کے لیے اس نے
مہینوں پہلے درخواست دی تھی،
اور پھر خود ہی بھول گیا تھا۔
جواب ہاں میں تھا
تو نوکری چھوڑنی تھی۔
شہر چھوڑنا تھا۔
یقین چھوڑنا تھا۔
جواب نہ میں تھا
تو سب کچھ ویسا ہی رہتا۔
محفوظ۔
خاموش۔
حارث نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
لوگ تیزی سے چل رہے تھے۔
جیسے سب کو معلوم ہو
کہ انہیں کہاں جانا ہے۔
اُسے یاد آیا
کہ بچپن میں
وہ دوڑنے سے پہلے
ہمیشہ ایک قدم پیچھے لیتا تھا۔
رفتار پکڑنے کے لیے۔
شام ہونے لگی۔
ای میل کھلی ہوئی تھی۔
کرسر “Yes” کے اوپر رُکا ہوا۔
ایک لمحے کو
اس کا ہاتھ کانپ گیا۔
پھر اس نے
سانس گہری لی،
اور کلک کر دیا۔
اُس رات
وہ دیر تک جاگتا رہا۔
خوف بھی تھا۔
خوشی بھی۔
مگر دل ہلکا تھا۔
اگلی صبح
دفتر وہی تھا،
مگر حارث جانتا تھا
کہ وہ یہاں اب مہمان ہے۔
اور کبھی کبھی
زندگی آگے بڑھانے کے لیے
ایک قدم پیچھے لینا ضروری ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- فیصلہ نہ کرنا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے
- خوف کا مطلب غلطی نہیں، تبدیلی ہوتی ہے
- محفوظ راستہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا
- ترقی اکثر ایک خاموش “ہاں” سے شروع ہوتی ہے
— اختتام —