← تمام اردو کہانیاں

ڈرتا ہوا چراغ

A small oil lamp flickering in a dark room, soft shadows on the wall, symbolic and hopeful atmosphere

کمرے کے کونے میں رکھا وہ چھوٹا سا چراغ
ہوا کے ذرا سے جھونکے سے بھی
لرزا کرتا تھا۔

فاطمہ اکثر اُسے دیکھ کر سوچتی
کہ شاید وہ خود بھی
اسی چراغ جیسی ہے۔

نہ بہت مضبوط،
نہ بہت بےخوف۔

بس جلتی ہوئی۔

فاطمہ نے زندگی سے
ہمیشہ آہستہ آہستہ بات کی تھی۔
اونچی آواز سے خواب مانگنے کی
اُسے عادت نہیں تھی۔

اسے بچپن سے سکھایا گیا تھا:
“زیادہ مت چاہو،
کہیں ٹوٹ نہ جاؤ۔”

مگر خواہشیں
دبی ہوں تو
سانس لینا مشکل کر دیتی ہیں۔

ایک رات
آندھی تیز ہو گئی۔

کھڑکیاں بجنے لگیں۔
دروازے کانپنے لگے۔

فاطمہ نے چراغ کی طرف دیکھا۔
روشنی ہچکچائی۔

اُس کے دل نے بھی
وہی کیا۔

وہ آگے بڑھی
اور ہاتھوں سے چراغ کو
ہوا سے ڈھانپ لیا۔

اس لمحے
اُسے احساس ہوا:
ڈر کے باوجود
کسی چیز کو بچانے کا نام
ہی حوصلہ ہے۔

آندھی تھم گئی۔

چراغ جلتا رہا۔

فاطمہ نے پہلی بار
اونچی آواز میں کہا:
“میں کوشش کروں گی۔”

یہ وعدہ کسی اور سے نہیں،
خود سے تھا۔

اور بعض وعدے
بس اتنے ہی کافی ہوتے ہیں
کہ زندگی کی سمت بدل دیں۔



معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آپ کے اندر بھی کوئی “ڈرتا ہوا چراغ” ہے، تو اُسے بجھنے مت دیں۔ وہی آپ کی پہچان بن سکتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →