ریت پر بنا ہوا نقش
سمندر آج غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔
نہ شور،
نہ جلدی۔
کامران ننگے پاؤں ریت پر چل رہا تھا۔
ہر قدم کے ساتھ
ایک نیا نقش بنتا،
اور پچھلا آہستہ آہستہ مٹتا جاتا۔
وہ رُک گیا۔
ریت پر جھک کر
اس نے انگلی سے ایک دائرہ بنایا۔
پھر اُس دائرے کے اندر
ایک چھوٹا سا نقطہ۔
یہ اُس کی زندگی تھی۔
بڑا دائرہ—دنیا۔
اندر کا نقطہ—وہ خود۔
اُسے ہمیشہ یہ خوف رہا
کہ اگر نشان مٹ گئے
تو وہ بھی مٹ جائے گا۔
اسی لیے وہ
یادیں سنبھال کر رکھتا تھا،
الفاظ جمع کرتا تھا،
اور لمحوں کو قید کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
اچانک
ایک لہر آئی۔
نہ تیز،
نہ بےرحم۔
بس اتنی
کہ دائرہ مٹ گیا۔
نقطہ بھی۔
کامران کا دل ڈوب سا گیا۔
مگر لہر واپس گئی
تو ریت ہموار تھی۔
صاف۔
نئی۔
اس نے پھر چلنا شروع کیا۔
نئے نقش بنے۔
تب اُسے سمجھ آیا:
ریت کا کام
یاد رکھنا نہیں،
راستہ دینا ہے۔
اور انسان کا کام
نشان چھوڑنا نہیں،
چلتے رہنا ہے۔
سورج ڈوب رہا تھا۔
آسمان سنہری تھا۔
کامران مسکرایا
اور بغیر پیچھے دیکھے
آگے بڑھ گیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر نشان ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا
- مٹ جانا ناکامی نہیں، فطرت ہے
- زندگی میں آگے بڑھنا، پیچھے رہ جانے سے زیادہ ضروری ہے
- جو مٹتا ہے، وہی نئی جگہ بناتا ہے
— اختتام —