دروازہ بند ہی رہا
وہ ہر شام اسی دروازے کے سامنے آ کر رُک جاتا۔
ہاتھ اُٹھتا، پھر رک جاتا۔
اندر ماں تھی۔ باہر وہ۔
الفاظ بہت تھے، حوصلہ کم۔
ایک دن دروازہ خود کھلا۔
مگر تب اندر صرف خاموشی تھی۔
اور باہر ایک ایسا بیٹا جو آخرکار دروازہ کھٹکھٹانا سیکھ گیا تھا— مگر دیر سے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموشی بھی فاصلے بڑھا دیتی ہے
- بات نہ کرنا، اکثر سب سے بڑی غلطی بن جاتا ہے
- رشتوں میں ہمت، وقت سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے
- کچھ دروازے وقت پر نہ کھلیں تو ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں
تو کل کا انتظار مت کیجیے—
آواز دے دیجیے۔
— اختتام —