چائے کے دو کپ
ہر شام ٹھیک سات بجے
ریاض اپنی بالکونی میں آ کر
چولہے پر چائے رکھ دیتا تھا۔
ایک کپ اپنے لیے،
اور ایک…
کسی اور کے لیے۔
سامنے والی بالکونی میں
امجد کرسی کھینچتا،
خاموشی سے بیٹھتا،
اور ہاتھ ہلا دیتا۔
نہ سلام کی آواز،
نہ حال احوال۔
بس دو کپ چائے
اور درمیان میں
ہوا کی ہلکی سی سرگوشی۔
ریاض اور امجد
ایک ہی عمارت میں
دس سال سے رہتے تھے۔
نام بھی بعد میں معلوم ہوئے۔
پہلے دن
صرف نظر ملی تھی۔
دوسرے دن
چائے کی بھاپ۔
تیسرے دن
عادت۔
وقت گزرتا گیا۔
بارش آئی،
گرمی بڑھی،
سردی نے کھڑکیاں بند کر دیں—
مگر چائے نہیں رُکی۔
ایک شام
امجد نظر نہیں آیا۔
چائے ٹھنڈی ہو گئی۔
اگلے دن بھی
سامنے والی بالکونی خالی تھی۔
تیسرے دن
ریاض نے پہلی بار
آواز دی:
“سب خیریت؟”
جواب نیچے سے آیا:
“بس ہسپتال میں ہوں۔”
ریاض نے چائے دوبارہ رکھی،
مگر اس بار
دو کپ نیچے لے گیا۔
امجد نے کپ ہاتھ میں لیا،
اور آہستہ سے کہا:
“ہم کبھی بات نہیں کرتے،
مگر تم نے کبھی چھوڑا بھی نہیں۔”
ریاض مسکرا دیا۔
“چائے کو باتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
اس دن کے بعد
وہ دونوں کبھی لمبی گفتگو میں نہیں پڑے۔
مگر ہر شام
دو کپ ضرور ہوتے۔
اور بعض رشتے
اسی طرح
خاموش رہ کر
زندگی بھر ساتھ نبھاتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مضبوط رشتے شور نہیں کرتے
- ساتھ ہونا، بات کرنے سے زیادہ اہم ہوتا ہے
- عادتیں بھی محبت کی شکل ہوتی ہیں
- خاموشی اگر ساتھ دے تو خالی نہیں لگتی
تو سمجھ لیجیے—
آپ اکیلے نہیں ہیں۔
— اختتام —