بارش کے بعد کی کھڑکی
بارش پوری رات ہوتی رہی۔
خاموش، مسلسل، ضدی۔
ندا کھڑکی کے پاس بیٹھی
قطروں کو شیشے پر بہتے دیکھتی رہی۔
ہر قطرہ
جیسے کوئی ادھورا جملہ ہو
جو نیچے آ کر ختم ہو جاتا ہے۔
کمرہ بکھرا ہوا تھا۔
کاغذات،
ادھورے خواب،
اور وہ فیصلے
جو کبھی مکمل نہیں ہو سکے۔
ندا کو ہمیشہ لگتا تھا
کہ زندگی اُس کے ساتھ
ذرا زیادہ سخت رہی ہے۔
جیسے خوشی
ہمیشہ ایک قدم آگے رہتی ہو۔
بارش تھمی۔
کچھ دیر بعد
بادل ہٹنے لگے۔
ہلکی سی روشنی
کھڑکی سے اندر آئی۔
ندا نے غور کیا—
شیشہ پہلے سے زیادہ صاف تھا۔
باہر کی دنیا
صاف نظر آ رہی تھی۔
وہ مسکرائی۔
شاید مسئلہ
باہر نہیں تھا،
نظر کا تھا۔
اس نے کاغذات سمیٹے۔
کچھ پھاڑ دیے۔
کچھ سنبھال کر رکھے۔
کھڑکی پوری کھول دی۔
تازہ ہوا اندر آئی۔
ندا نے خود سے کہا:
“سب کچھ ایک ساتھ ٹھیک نہیں ہوتا،
مگر کچھ تو ہو ہی سکتا ہے۔”
اس دن
ندا نے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔
نہ شہر بدلا،
نہ زندگی۔
بس ایک کھڑکی کھولی۔
اور بعض اوقات
اتنا ہی کافی ہوتا ہے
امید کو واپس بلانے کے لیے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- مشکل وقت نظر کو دھندلا دیتا ہے، راستہ نہیں چھینتا
- امید اکثر خاموشی سے واپس آتی ہے
- ہر مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر ہر دن تھوڑا بہتر ہو سکتا ہے
- زندگی میں چھوٹے قدم بھی بڑی روشنی بن سکتے ہیں
تو شاید بارش کے بعد
آپ کی کھڑکی بھی صاف ہونے والی ہے۔
— اختتام —