وہ خط جو کبھی بھیجا نہیں گیا
الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں
ایک پرانا لفافہ رکھا تھا۔
پیلا پڑ چکا تھا،
مگر بند۔
عمران نے اُسے کئی بار دیکھا تھا،
مگر کبھی کھولا نہیں۔
یہ خط اُس نے
بارہ سال پہلے لکھا تھا۔
اُس دن
بارش ہو رہی تھی۔
اور شہر چھوڑنے والی بس
اسٹینڈ پر کھڑی تھی۔
سامنے کرسی پر بیٹھی
سدرہ خاموش تھی۔
آنکھوں میں سوال،
لبوں پر خاموشی۔
عمران کے پاس
کہنے کو بہت کچھ تھا،
مگر ہمت کم تھی۔
وہ جانتا تھا
کہ اگر بول دیا
تو شاید رکنا پڑ جائے۔
اور وہ رُکنے سے ڈرتا تھا۔
اسی رات
اس نے خط لکھا۔
ہر وہ بات
جو وہ کبھی کہہ نہیں پایا،
کاغذ پر اتار دی۔
یہ بھی لکھا
کہ وہ محبت کرتا ہے،
اور یہ بھی
کہ وہ خود سے زیادہ
اپنے خوابوں سے ڈرتا ہے۔
خط مکمل ہوا،
لفافہ بند ہوا،
مگر پتہ نہیں لکھا گیا۔
وقت گزر گیا۔
عمران نے شہر بدلے،
نوکریاں بدلیں،
لوگ بدلے۔
مگر خط
وہیں رہا۔
ایک دن
امی کے انتقال کے بعد
گھر خالی کرتے ہوئے
وہ لفافہ ہاتھ میں آ گیا۔
عمران دیر تک
اُسے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے
کھولا۔
تحریر کانپتی ہوئی تھی،
جیسے اُس وقت کا دل۔
خط پڑھتے ہوئے
اُسے احساس ہوا
کہ اصل جدائی
سدرہ سے نہیں تھی،
خود سے تھی۔
اُس نے اگلے دن
سدرہ کو تلاش کیا۔
پتہ چلا
وہ اسی شہر میں تھی۔
ملاقات ہوئی۔
دو لوگ،
اور درمیان میں
بارہ سال۔
عمران نے خط آگے بڑھایا۔
سدرہ نے پڑھا۔
خاموشی طویل تھی،
مگر بھاری نہیں۔
سدرہ نے مسکرا کر کہا:
“یہ خط اگر اُس وقت مل جاتا،
تو شاید ہم دونوں مختلف ہوتے۔
مگر آج
یہ مجھے سکون دے رہا ہے۔”
عمران نے سر جھکا لیا۔
سدرہ نے لفافہ واپس کیا۔
“اب اسے سنبھال کر رکھنا،
یہ تمہاری سچائی ہے۔”
عمران نے پہلی بار
کسی بوجھ کے بغیر
سانس لی۔
کچھ خط
بھیجے نہیں جاتے،
مگر پڑھ لیے جائیں
تو دل ہلکا ہو جاتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وقت پر نہ کہے گئے الفاظ بوجھ بن جاتے ہیں
- خاموشی ہمیشہ وقار نہیں، کبھی خوف بھی ہوتی ہے
- سچائی دیر سے بھی قبول ہو جائے تو شفا دیتی ہے
- کچھ رشتوں کا مقصد ساتھ رہنا نہیں، سمجھ دینا ہوتا ہے
تو اُسے پڑھ لیجیے—
شاید کسی اور کے لیے نہیں،
خود اپنے لیے۔
— اختتام —