← تمام اردو کہانیاں

سیڑھی کا آخری زینہ

A narrow staircase leading upward with light at the top, old walls, symbolic and hopeful atmosphere

عمارت پرانی تھی۔
دیواروں پر وقت کی دراڑیں
اور سیڑھیوں پر قدموں کی تھکن جمی ہوئی تھی۔

عارف روز اسی عمارت کے باہر سے گزرتا،
مگر اندر جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔

یہ وہی جگہ تھی
جہاں کبھی اُس نے خواب دیکھا تھا—
کہ ایک دن
اوپر والے کمرے میں
اُس کا نام لکھا ہوگا۔

مگر زندگی
اسے پہلے ہی کئی سیڑھیاں اتار چکی تھی۔

ناکامی،
لوگوں کی باتیں،
اور وہ آواز
جو ہر رات اُس سے کہتی:
“تم اتنا آگے نہیں جا سکتے۔”

ایک دن
بارش کے بعد
ہوا میں عجیب سی تازگی تھی۔

عارف نے قدم روکے۔
اور دروازہ دھکیل دیا۔

سیڑھیوں پر روشنی کم تھی۔
ہر زینہ
جیسے سوال بن کر سامنے آ رہا تھا۔

پہلا زینہ—
“اگر پھر ہار گئے تو؟”

دوسرا—
“لوگ کیا کہیں گے؟”

تیسرا—
“اتنی دیر ہو چکی ہے۔”

عارف رُک گیا۔
سانس بھاری ہو گئی۔

پھر اُس نے نیچے دیکھا۔
راستہ لمبا تھا،
واپس جانا آسان نہیں تھا۔

اس نے خود سے کہا:
“میں پہلے بھی گرا ہوں،
یہ نیا نہیں ہوگا۔”

وہ چل پڑا۔

ہر زینہ
بھاری تھا،
مگر قدم مضبوط ہوتے گئے۔

آخرکار
وہ آخری زینے پر پہنچا۔

اوپر کا دروازہ بند تھا۔

عارف نے دستک دی۔
کوئی جواب نہیں آیا۔

اس نے دروازہ خود کھولا۔

کمرہ خالی تھا۔
نہ نام،
نہ تختی۔

صرف ایک کھڑکی تھی
جس سے پورا شہر نظر آ رہا تھا۔

عارف مسکرا دیا۔

اُسے سمجھ آ گیا:
اصل کامیابی
کمرے میں نہیں،
یہاں تک پہنچنے میں تھی۔

وہ کھڑکی کے پاس کھڑا رہا
اور پہلی بار
خود کو چھوٹا محسوس نہیں کیا۔

کبھی کبھی
سیڑھی کا آخری زینہ
ہمیں اوپر نہیں،
خود تک پہنچا دیتا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اگر آج آپ کسی سیڑھی کے بیچ رُکے ہیں،
تو آخری زینہ بھی آپ ہی کا منتظر ہے۔
بس ایک قدم اور۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →