خاموش گھڑی
کمرے کی دیوار پر
ایک پرانی گھڑی لگی تھی۔
سوئیاں جمی ہوئی تھیں،
مگر گھڑی ہٹائی نہیں گئی تھی۔
علی کو یاد نہیں
کہ آخری بار
اُس نے اُس گھڑی کو
چلتے دیکھا ہو۔
امی کہتی تھیں:
“یہ تمہارے ابا کی نشانی ہے،
اتارنا مت۔”
ابا کے جانے کے بعد
وقت جیسے
اس کمرے میں رک گیا تھا۔
علی روز دفتر جاتا،
واپس آتا،
موبائل کی اسکرین دیکھتا،
مگر کبھی
دیوار کی گھڑی نہیں دیکھتا۔
ایک دن
بجلی چلی گئی۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
موبائل کی بیٹری بھی ختم تھی۔
علی پہلی بار
واقعی اکیلا بیٹھا تھا۔
اُس کی نظر
دیوار پر ٹکی گھڑی پر پڑی۔
خاموش۔
بے حرکت۔
اُسے لگا
جیسے وہ گھڑی
اُسے دیکھ رہی ہو۔
علی کو یاد آیا
کہ ابا کہا کرتے تھے:
“وقت کو سننا سیکھو،
وہ بولے بغیر بھی
سب کچھ بتا دیتا ہے۔”
علی نے گھڑی اتاری۔
پیچھے مٹی جمی ہوئی تھی۔
اُس نے صاف کی،
نئی سیل لگائی۔
ٹک…
ٹک…
آواز گونجی۔
علی چونک گیا۔
وہ آواز
صرف گھڑی کی نہیں تھی،
وہ اُن لمحوں کی تھی
جو وہ جیتا ہی نہیں تھا۔
گھڑی چلنے لگی،
اور علی رک گیا۔
اُس نے سوچا
کہ وہ ہمیشہ
“کل” پر کیوں جیتا رہا۔
کل بات کروں گا۔
کل وقت نکالوں گا۔
کل خود کو سمجھوں گا۔
گھڑی نے
ایک ایک سیکنڈ
یاد دلایا
کہ زندگی
ادھار پر نہیں ملتی۔
اگلے دن
علی نے چھٹی لی۔
امی کے ساتھ بیٹھا۔
خاموشی میں باتیں کیں۔
دیوار کی گھڑی چل رہی تھی۔
علی مسکرایا۔
وقت واپس نہیں آیا،
مگر اُس نے
رُکنا سیکھ لیا تھا۔
کبھی کبھی
خاموش گھڑیاں
ہمیں شور مچانے سے
بچا لیتی ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وقت کی قدر اُس کے رکنے سے نہیں، سمجھنے سے ہوتی ہے
- خاموشی ہمیں وہ سکھاتی ہے جو شور نہیں سکھا سکتا
- زندگی “بعد میں” کے وعدے قبول نہیں کرتی
- بعض اوقات خود کو روکنا ہی اصل آگے بڑھنا ہوتا ہے
تو شاید وہ وقت نہیں،
آپ کی توجہ مانگ رہی ہے۔
— اختتام —