آخری نشست
پارک کے کونے میں
ایک پرانی لکڑی کی بنچ تھی۔
رنگ اُکھڑا ہوا،
مگر مضبوط۔
سلمان ہر اتوار
وہاں آتا تھا۔
یہ اُس کی اور فریحہ کی جگہ تھی۔
شروع میں
باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں۔
پھر
خاموشی بڑھنے لگی۔
سلمان نے سمجھا
خاموشی آرام ہے۔
فریحہ نے سمجھا
خاموشی فاصلے کا آغاز ہے۔
زندگی تیز ہو گئی۔
نوکری،
ذمہ داریاں،
اور “بعد میں” کے وعدے۔
ایک دن
فریحہ نے کہا:
“ہم کبھی بات بھی کریں گے؟”
سلمان نے مسکرا کر جواب دیا:
“ابھی نہیں، وقت نہیں ہے۔”
وہ آخری نشست تھی۔
اگلے اتوار
سلمان آیا۔
بنچ خالی تھی۔
اُس نے انتظار کیا۔
سورج ڈھل گیا۔
فون پر ایک پیغام آیا:
“کچھ نشستیں دوبارہ نہیں ملتیں۔
میں جا رہی ہوں۔”
سلمان پہلی بار
وقت پر پہنچا تھا،
مگر دیر ہو چکی تھی۔
ہوا میں
وہی پرانی خاموشی تھی،
مگر اب وہ آرام دہ نہیں تھی۔
سلمان بنچ پر بیٹھا رہا۔
اُسے احساس ہوا
کہ رشتے
وقت مانگتے ہیں،
الفاظ نہیں۔
وہ اُٹھا،
اور جاتے جاتے
بنچ کو دیکھا۔
کچھ جگہیں
ہمیشہ ہمیں یاد دلاتی رہتی ہیں
کہ محبت کو
ٹالنا نہیں چاہیے تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموشی ہر بار سمجھوتہ نہیں ہوتی
- وقت نہ دینا، چھوڑ دینے کے برابر ہو سکتا ہے
- رشتے وعدوں سے نہیں، موجودگی سے زندہ رہتے ہیں
- بعض مواقع صرف ایک بار ملتے ہیں
تو کل کی نشست خالی ہو سکتی ہے۔
ابھی جا کر بیٹھ جائیں۔
— اختتام —